230

گینڈے کو بچانے کےلیے گھوڑے کے بالوں سے بنا نقلی سینگ

گینڈے کا صرف ایک سینگ، چھ کروڑ پاکستانی روپوں سے بھی زیادہ رقم میں فروخت ہوتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

گینڈے کا صرف ایک سینگ، چھ کروڑ پاکستانی روپوں سے بھی زیادہ رقم میں فروخت ہوتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

لندن: گینڈے کے شکار کی سب سے بڑی وجہ اس کے سینگ کا حصول ہے جسے علاج کے متعدد روایتی طریقوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی طرح بالکل اصلی جیسے دکھائی دینے والے، گینڈے کے نقلی سینگ تیار کرلیے جائیں اور انہیں بلیک مارکیٹ میں پھیلا دیا جائے، تو اس سے گینڈے کا شکار کم کرنے اور اس کی نسل بچانے میں خاصی مدد ملے گی۔ یہ خبر بھی اسی بارے میں ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے گینڈے کی تیزی سے ختم ہوتی ہوئی نسل بچانے کےلیے ایسے نقلی سینگ بنانے کا طریقہ وضع کرلیا ہے جو گھوڑے کے بالوں سے تیار کیے جائیں گے اور گینڈے کے اصلی سینگ کی طرح دکھائی دیں گے۔ انتہائی محتاط تجزیئے کے باوجود یہ پہچاننا مشکل ہوگا کہ یہ گینڈے کا اصلی سینگ ہے یا گھوڑے کے بالوں سے بنا، نقلی سینگ۔

جب گینڈے کے ان نقلی سینگوں کی بڑی تعداد بلیک مارکیٹ میں فروخت کے لیے موجود ہوگی تو ان کے خریدار بھی شکوک و شبہات میں پڑ جائیں گے اور گینڈے کے سینگ خریدنے سے گریز کریں گے کہ کہیں یہ جعلی نہ ہوں۔ اس طرح گینڈے کے اصلی سینگوں کی مانگ میں کمی واقع ہوگی، جس سے معدومیت کے خطرے سے دوچار اس بے زبان جانور کو بچانے میں بہت مدد ملے گی۔

بتاتے چلیں کہ گائے، بیل، بکری، بھیڑ وغیرہ کا سینگ ایک سخت ہڈی پر مشتمل ہوتا جس پر ’’کیراٹن‘‘ کہلانے والے ایک مادّے کی تہہ چڑھی ہوتی ہے۔ یہ وہی مادّہ ہے جو بالوں، ناخنوں اور جانوروں کے کھروں میں وافر موجود ہوتا ہے۔ ان کے برعکس، گینڈے کا سینگ مکمل طور پر کیراٹن سے بنا ہوتا ہے، جس کے درمیان میں کوئی ہڈی نہیں ہوتی۔ یعنی گینڈے کے سینگ کو اس کے بالوں کا سخت گچھا بھی سمجھ سکتے ہیں۔

یورپ سے افریقہ تک، روایتی طب کے بعض طریقوں میں گینڈے کے سینگ کو متعدد بیماریوں کا مؤثر ترین علاج بھی سمجھا جاتا ہے جن میں بطورِ خاص مردانہ امراض شامل ہیں۔ علاج کی غرض سے دوا بنانے کےلیے گینڈے کے سینگ کو پیس کر گولیاں اور کیپسول بنائے جاتے ہیں جو بہت مہنگے داموں فروخت کیے جاتے ہیں۔

بلیک مارکیٹ میں گینڈے کے سینگ کی قیمت 60 ہزار ڈالر فی کلوگرام ہے جبکہ یہ سینگ 4.5 کلوگرام سے 6.3 کلوگرام تک وزنی ہوتا ہے جو بلیک مارکیٹ میں 4 لاکھ ڈالر (سوا چھ کروڑ روپے) تک میں فروخت ہوجاتا ہے۔ یہ رقم اتنی زیادہ اور پُرکشش ہے کہ دنیا بھر کے غیر قانونی شکاریوں نے گینڈے کا بے دریغ شکار کرکے اس کی نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے گھوڑے کے بالوں سے گینڈے کا جو نقلی سینگ بنانے کا طریقہ وضع کیا ہے، اسے استعمال کرتے ہوئے بہت کم خرچ پر گینڈے کے نقلی سینگوں کی بڑی تعداد تیار کی جاسکے گی۔ گھوڑے کے بالوں کو سخت گچھے کی شکل میں لانے کےلیے کم و بیش وہی تمام مادّے استعمال کیے گئے ہیں جو گینڈے کے سینگ میں قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں۔

تجربہ گاہ میں حساس ترین آلات اور انتہائی محتاط تجزیوں کے باوجود، گینڈے کے اصلی سینگ اور گھوڑے کے بالوں سے بنائے گئے اس ننھے منے سے نقلی سینگ میں کوئی فرق واضح نہیں ہوسکا… اور ماہرین بھی یہی چاہتے تھے۔

البتہ، ان تمام تجربات کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ گھوڑے کے بالوں سے گینڈے کا مصنوعی سینگ بنایا جاسکتا ہے۔ اس بارے میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ حیوانیات (زولوجی ڈیپارٹمنٹ) کے پروفیسر اور اس تحقیق کے نگراں، ڈاکٹر فرٹز وولریتھ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ ثابت کردیا کم خرچ سے گینڈے کا نقلی سینگ بنایا جاسکتا ہے۔ ’’اب یہ دوسروں کا کام ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو مزید آگے بڑھائیں تاکہ (گینڈے کے) تاجروں کو دھوکا دیں، (سینگ کی) قیمتوں میں کمی لائیں اور گینڈے کی نسل بچانے میں مدد کریں،‘‘ انہوں نے کہا۔

اس تحقیق کی تفصیلات نیچر پبلشنگ گروپ کے ریسرچ جرنل ’’سائنٹفک رپورٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں