11

لوگ مجھ سے نریندر مودی والے لاک ڈاؤن کی توقع کررہے تھے، اللہ کا شکر ہے دباؤ میں نہیں آیا،ہمارا اگلا مہینہ مشکل ہے، وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹرینز اور وزراء کو اہم ہدایات جاری کر دیں، عوام کیلئے بھی خصوصی پیغام

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لوگ مجھ سے لاک ڈاؤن کی توقع کررہے تھے جو نریندر مودی نے کیا، اللہ کا شکر میں نے اس دباؤ کی مزاحمت کی اور وہ لاک ڈاؤن نہیں لگایا،ہمارااگلا مہینہ مشکل ہے،ہمیں بیماروں، مریضوں اور بزرگوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن کرنا پڑیگا،کسی نے آج تک پاکستان میں عطیات سے اتنے پیسے اکٹھے نہیں کیے
جتنے 30 سال کے دوران میں نے کیے ہیں، وزیراعظم کووِڈ ریلیف فنڈ کے ساڑھے 4 ارب روپے میں 50 فیصد چھوٹے عطیات ہیں جو عام لوگوں

نے دئیے،ایک دفعہ لوگوں کو اعتماد ہوجائے کہ ہمارے عطیات کرپشن کی نذر ہونے کے بجائے درست طریقے سے استعمال ہورہے ہیں تو کھلے دل سے عطیات دیتے ہیں،بڑے ہسپتالوں کے باہر بیماروں کیساتھ آنے والے تیمار دار کو ٹھہرانے کیلئے پناہ گاہیں بنائی جائیں گی،ہم احساس پروگرام میں استعمال ہونے والی رقم کی مکمل تفصیلات شائع کریں گے،پارلیمنٹرینز اور وزرا سے کہتاہوں پناہ گاہوں میں جائیں اورلوگوں کیساتھ کھاناکھائیں اورحال پوچھیں، پناہ گاہوں میں اضافہ کریں گے۔ پیر کو سماجی تحفظ کے پروگرامز احساس اور وزیراعظم کووِڈ ریلیف فنڈ کے حوالے سے منعقدہ بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں 30 سال سے پیسہ اکٹھا کرنے والے فنڈ ریزر کے طور میں یہ کہتا ہوں کہ پاکستان قوم میں عطیہ کرنے کے حوالے سے جو جذبہ پایا جاتا ہے اسے کوئی بھی اس طرح نہیں سمجھتا جس طرح میں سمجھتا ہوں۔انہوں نے بتایا کہ جب میں نے (شوکت خانم کیلئے) عطیات جمع کرنا شروع کیے تو یہ میرے لیے بھی ایک عجیب تجربہ تھا کیوں کہ میں پاکستان کے سب سے مہنگے اسکول میں یہ سوچ کر گیا کہ وہاں لوگوں سے عطیات اکٹھے کرلوں گا لیکن آخر میں مجھے عطیات عام لوگوں نے ہی دیے۔انہوں نے کہاکہ ہماری قوم میں عطیات دینے کا جذبہ اس
لیے زیادہ ہے کہ ان کا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم کووِڈ ریلیف فنڈ کے ساڑھے 4 ارب روپے میں 50 فیصد چھوٹے عطیات ہیں جو عام لوگوں نے دئیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 30 سال میں کسی نے اتنا پیسہ اکٹھا نہیں کیا جتنا میں نے کیا اور میرے مشاہدے میں یہ بات بھی آئی کہ پیسہ وہ افراد دیتے ہیں جن کا اللہ اور آخرت پر ایمان ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں کینسر کے علاج کے لیے
شوکت خانم بنایا گیا جہاں امیر بیرونِ ملک جائے بغیر اور غریب مفت میں کینسر کا علاج کرواسکیں اور پوری دنیا میں کہیں بھی اس طرح کا کوئی تجربہ کامیاب نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے کہ یہ ایک معجزہ ہے کہ کینسر ہسپتال میں کہ جہاں سب سے مہنگا علاج ہے وہاں 75 مریضوں کا ہر سال مفت علاج ہوتا ہے جسے ترقی یافتہ ممالک کے بھی ہسپتال برداشت نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہاکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کینسر
ہسپتال پاکستانیوں نے ہی بنایا اور وہ ہی اسے چلا رہے ہیں اور 70 کروڑ روپے میں تعمیر ہونے والے ہسپتال کا خسارہ 12 ارب روپے ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ لوگوں کو یہ اعتماد ہوجائے کہ جو عطیات ہم دے رہے ہیں وہ کرپشن کی نذر ہونے کے بجائے درست طریقے سے استعمال ہورہے تو یہ قوم جتنے کھلے دل سے خیرات دیتی ہے اس طرح شاید ہی دنیا میں کوئی قوم دیتی ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو دنیا کے ان ممالک میں شامل کیا جاتا
ہے جہاں سب سے زیادہ عطیات دیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب سیلاب اور زلزلے آئے اس وقت بھی قوم نے بڑھ چڑھ کر مدد کی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایک جگہ ساری دنیا پہنچ جاتی تھی اور کچھ مقامات پر لوگ امداد سے محروم رہتے تھے مثلاً بالاکوٹ میں جن زلزلہ آیا تو 3 میل تک امدادی اشیا لے کر پہنچنے والی گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں لیکن جن علاقوں کا ذکر نہیں ہوا وہاں امداد سے محروم بھوکے لوگ گاڑیاں لوٹ رہے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے جو صورتحال سامنے آئی اس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی، ہم تو پہلے ہی مشکل معاشی حالات سے گزر رہے تھے لیکن امریکا جیسے ملک میں لوگ طویل قطاریں لگا کر امداد وصول کرتے نظر آئے اسی طرح اٹلی میں بھوک کا شکار افراد کو کھانا فراہم کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس کو دیکھتے ہوئے ہمارے ملک میں تو مشکلات آنی ہیں تھیں اور اگر مجھ سے صوبے
پوچھ لیتے تو میں کبھی اس طرح کا لاک ڈاؤن نہیں ہونے دیتا کیوں کہ جب لاک ڈاؤن لگائیں تو پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ اس کے معاشرے کے دیگر طبقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک آپ یہ نہ سوچیں کہ یومیہ اجرت کمانے والے کس طرح گزارا کریں گے اس وقت تک آپ کو مکمل لاک ڈاؤن نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن ایک دم افراتفری کے عالم میں یورپ کو دیکھتے ہوئے لاک ڈاؤن کردیا حالانکہ وہاں حالات مختلف
تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ شکر ہے کہ اس کے بعد میری بات سن لی گئی حالانکہ مجھ پر بہت تنقید بھی ہوئی کہ بھارت میں نریندر مودی نے بھی لاک ڈاؤن لگادیا، اس نے وہ لاک ڈاؤن لگایا جس کی توقع لوگ مجھ سے کررہے تھے لیکن اللہ کا شکر میں نے اس دباؤ کی مزاحمت کی اور وہ لاک ڈاؤن نہیں لگایا۔انہوں نے کہا کہ جو لاک ڈاؤن ہم نے لگایا اس کے نتیجے میں خدمات کا شعبہ تباہ ہوگیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے ابتدا میں جن غریب
علاقوں میں امدادی گاڑیاں جارہی تھی وہاں لوٹ مار مچ جاتی تھی تاہم ہم نے پرائم منسٹر ریلیف منسٹر پروگرام شروع کیا جس سے بہت فائدہ ہوا۔انہوں نے شہروں میں کام کیلئے آنے والے افراد سخت سردی میں سڑکوں پر سوتے تھے جس کو دیکھتے ہوئے ہم نے پناہ گاہیں قائم کیں تا کہ وہ آرام اور عزت سے ایک جگہ رکیں اور وہاں انہیں نہانے اور کھانے کی سہولیات میسر ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ بڑے ہسپتالوں کے باہر بیماروں کے ساتھ آنے
والے تیمار دار کو ٹھہرانے کے لیے پناہ گاہیں بنائی جائیں گی۔انہوں نے کہاکہ لوگوں میں عطیہ کرنے کا جذبہ ہے صرف انہیں بھروسہ اور یقین دلانے کی ضرورت ہے اس لیے ہم احساس پروگرام میں استعمال ہونے والی رقم کی مکمل تفصیلات شائع کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں بیماروں، مریضوں اور بزرگوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا۔عمران خان نے کہا کہ کورونا سے پہلے ہی سڑکوں پر سونے
والوں کیلئے پناہ گاہ اور لنگر کا اہتمام کیا، اسلام آباد اور لاہور سمیت ملک میں سخت ٹھنڈ میں لوگ سڑک پر سورہے ہوتے ہیں، یہ معاشرے کے لیے بہت شرم ناک بات ہے، پارلیمنٹرینز اور وزرا سے کہتاہوں پناہ گاہوں میں جائیں اورلوگوں کیساتھ کھاناکھائیں اورحال پوچھیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پناہ گاہوں میں اضافہ کریں گے اور ملک کو اس سطح تک لے کر جائیں گے جس میں غریب طبقے کیلئے رحم اور احساس ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے
لیے چیلنج یہ ہے کہ کاروبار بھی کھلا رہے اور لوگوں کو احساس بھی دلائیں کہ ایس او پیز کے مطابق کام کرنا ہے، ہمارا اگلا مہینہ مشکل ہے جس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن ہوگا، اب سب سے بڑا یہ کام کرنا ہے جن لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہے جن میں معمر اور بیمار افراد شامل ہیں مثلا زیابطیس، بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں والے افراد، ان کے لیے لاک ڈاؤن کرنا ہے، انہیں خاص احتیاط کرنی ہیں، یہ ہمارا چیلنج ہے، ان لوگوں کو بچالیا تو کورونا کا
وہ نقصان نہیں ہوگا جتنا دیگر ممالک میں ہوا ہے، اب سے اگلے ماہ میں اہم کام یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے اثرات سے غریب طبقے کو اور ان لوگوں کو بچالیں جنہیں کورونا سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔عمران خان نے کہا کہ احساس پروگرام میں کوئی سیاسی مقاصد نہیں، نادرا کے ڈیٹا سے مستحقین کی ساری معلومات لی جاتی ہیں۔قبل ازیں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے غربت کا خاتمہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے سماجی تحفظ کے حوالے سے شروع کیے گئے 3 اقدامات پر بریفنگ دی جس میں سول سوسائٹی کے لیے سماجی تحفظ کے پروگرام میں شمولیت، ٹائیگر فورس کے لیے ایپ کی لانچ اور پرائم منسٹر کورونا ریلیف فنڈ کی ویب سائٹ کا باضابطہ آغاز شامل تھا۔

موضوعات:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں