9

وفاقی بجٹ میں تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر مایوس سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری ،بڑی سفارش سامنے آگئی

اسلام آباد (این این آئی) سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ خزانہ کا اجلاس ہوا جس میںسینیٹر کلثوم پروین نے کہاکہ نجی سکولوں کی فیس پر ٹیکس لیوی ختم کی جائے، 2لاکھ روپے سالانہ سکول فیس جمع کرانے والوں پر ٹیکس لگایا جائے۔ ممبر پالیسی ایف بی آر کے مطابق 2 لاکھ روپے سے زائد فیس پر ٹیکس لاگو ہے اور کم پر نہیں ہے۔
کمیٹی نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی سفارش منظور کردی ۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہاکہ سیمنٹ پر ڈیوٹی میں ریلیف دیا جائے۔ ممبر پالیسی ایف بی آر

کے مطابق سیمنٹ کی ایک بوری پر 88 روپے ڈیوٹی لی جارہی ہے، پہلے سیمنٹ کی بوری پر 100 روپے ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔ ممبر پالیسی ایف بی آر کے مطابق ڈیوٹی میں کمی سے ایف بی آر کو 15 ارب روپے کا محصولات کا نقصان ہوا ہے۔ سینیٹر سیمی ایزدی نے کہاکہ ٹڈی دل کی روک تھام کیلئے 4 ارب روپے کے بجائے 8 ارب روپے مختص کئے جائیں۔کمیٹی نے ٹڈی دل کے تدارک کیلئے 8 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی منظوری دیدی، کمیٹی نے سینیٹر سیمی ایزدی کی کھاد میں 50 ارب کے بجائے 75 ارب مختص کرنے کی منظوری دیدی، کمیٹی نے ایچ ای سی کو آن لائن جامعات کو مزید فنڈز دینے کی سفارش کی منظوری دیدی۔ سینیٹر سیمی ایزدی نے کہاکہ ٹیکسٹائل کی برآمدات پر جی ایس ٹی کو 17 فیصد سے 4 فیصد ہر لایا جائے یا ختم کیا جائے۔ ممبر پالیسی ایف بی آر نے کہاکہ ٹیکسٹائل کی صنعت کو برآمدات میں دنیا میں زیرو ریٹنگ نہیں دی گئی ہے۔ اجلاس کے دور ان خزانہ کمیٹی نے کہاکہ بجلی اور گیس کے بلوں پہ مالک اور کرائے دار کا نام شامل کیا جائے۔
بجلی اور گیس کے بلوں پہ مالک اور کرائے دار کا نام شامل کرنے میں وقت دیا جائے۔سینیٹر غوث محمد نیازی نے ایف بی آر کے محصولات کے ہدف پر نظر ثانی کی تجویز دیدی۔ ممبر پالیسی ایف بی آر نے کہاکہ رواں مالی سال اب تک 3800 ارب روپے کے محصولات جمع ہوچکے ہیں۔ممبر پالیسی ایف بی آر کے مطابق جون 2020 کے اختتام پر 3900 ارب روپے کا نظر ثانی شدہ ہدف حاصل کرلیا جائے گا، درآمدات کی کمی نہ ہوتی تو رواں سال بھی 4800 ارب روپے کے محصولات جمع ہوتے۔
ممبر پالیسی ایف بی آر کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے بھی محصولات میں 800 ارب روپے کا نقصان ہوئے،نئے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 960 ارب روپے کے محصولات کا ہدف رکھا ہے۔ممبر پالیسی ایف بی آر کے مطابق کورونا وائرس کے اختتام پر مکمل تصویر سامنے آجاتے گی، ایف بی آر اگر ٹیکس اکھٹا نہیں کرے گا تو حکومت کو مزید قرضہ لینا پڑے گا۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہاکہ کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ ریونیو میں مزید اضافہ ہوگا۔
جو فنانس بل 2020 بنایا گیا ہے اس سے 4963 ارب کا ہدف حاصل ہونا ممکن نہیں ہے۔کمیٹی نے ٹیکس اہداف کے حصول کیلئے فنانس بل پر نظر ثانی کی سفارش کردی۔سینیٹر غوث محمد نیازی کی فوجی جوانوں اور افسروں کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دیدی،کمیٹی نے سرکاری ملازمین اور آرمی افسروں اور جوانوں کی تنخواہوں میں اضافے کی سفارش کردی۔اجلاس کے دور ان آل پاکستان فرٹیلائزرز ڈیلرز نے کہاکہ کھاد کی بوری پر ٹرن اوور ٹیکس کی شرح 0.75 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
آل پاکستان فرٹیلائزر ڈیلرز نے کہاکہ ہمارا منافع 2 فیصد ہے جس میں 0.75 فیصد ٹرن اوور ٹیکس میں چلا جاتا ہے۔ ممبر پالیسی ایف بی آر نے کہاکہ 18 سے 25 روپے کھاد کی فی بوری پر ٹیکس ہے، بڑی کمپنیوں کو ڈیلرز کے ساتھ منافع تقسیم کرنا چاہیے۔ممبر پالیسی ایف بی آر نے کہاکہ 5 بڑی کمپنیوں نے 5 سال سے جی آئی ڈی سی جمع نہیں کرایا، 5 فیکٹریوں کو سبسڈی دی گئی ہے اب براہ راست کسانوں کو سبسڈی دی جانی چاہیے۔ممبر پالیسی ایف بی آر نے کہاکہ ڈیلرز اور فیکٹری مالکان کو آپس میں معاملہ حل کرنا ہوگا۔کمیٹی نے آل پاکستان فرٹیلائزرز ڈیلرز ایسوسی ایشن کی کھاد کی بوری پر ٹرن اوور ٹیکس 0.25 کرنے کی تجویز مسترد کردی۔

موضوعات:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں