7

کووڈ 19 مریضوں کی جان بچانے والی دوا ’ڈیکسامیتھازون‘ ماہرین کی نظر میں کیسے آئی؟

یہ ایک غیر معمولی اور خوش آئند لمحہ ہے کہ ہم کووڈ 19 کے علاج کے بارے میں کچھ مثبت کہنے کے قابل ہوئے ہیں۔ ایک ہفتے پہلے تک جان بچانے والی کسی بھی دوا کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی لیکن اب ہمارے پاس ڈیکسامیتھازون ہے، جس سے وینٹیلیٹر پر موجود ایک تہائی مریضوں میں موت کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے اور جو مریض آکسیجن پر ہوں ان میں سے 20 فیصد کو بچایا سکتا ہے۔

میں ’اہم پیشرفت‘ جیسی اصطلاح کا استعمال کم ہی کرتا ہوں لیکن اس معاملے میں واقعی ایسا ہی ہوا ہے۔ایسا آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک چھوٹی سی ٹیم کی استقامت اور یک جہتی اور برطانیہ بھر کے ہسپتالوں کے تعاون اور ہزاروں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی رضامندی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

وہ مطالعہ جس کا ڈیکسامیتھازون ایک حصہ ہے، اس کا نام ’ریکوری‘ ہے۔ طبی آزمائشیں عام طور پر مہینوں جاری رہتی ہیں، کبھی کبھی ان میں کئی سال بھی لگ جاتے ہیں اور اس میں سینکڑوں مریض بھی شامل ہوتے ہیں۔ لیکن ’ریکوری‘ ٹرائل کو نو دن میں مکمل کیا گیا اور اس میں برطانیہ بھر کے175 ہسپتالوں میں سے 11500 مریضوں نے حصہ لیا۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد اور ڈاکٹروں پر کام کا بوجھ حد سے زیادہ بڑھنے سے قبل، تیز رفتاری دکھانا بہت ضروری تھی۔

برطانیہ کا شمار یورپ کے کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد خوفناک ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ یہاں مریضوں کی وہ تعداد موجود تھی جو کووڈ 19 کے علاج کے سب سے بڑے ٹرائل کے لیے ضروری تھی۔ اس طبی آزمائش کی سربراہی پروفیسر پیٹر ہوربی نے کی جنھوں نے کئی برس، ایک نامعلوم جرثومے کی وجہ سے پیدا ہونے والی وبا کے بارے میں جاننے اور معلومات حاصل کرنے کی کوشش میں گزارے ہیں۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ مایوس تھے کہ گزشتہ وبائی مرض ایچ ون این ون سوائن فلو کے دوران ’ادویات کے مناسب ٹرائل کرنے میں بڑے پیمانے پر ناکامی‘ ہوئی تھی اور انھیں کسی بھی علاج کے کارآمد ہونے کے ’صفر شواہد‘ ملے تھے۔ ہوربی اور ان کے ساتھی تحقیق دان پروفیسر مارٹن لینڈرے اس بارے میں پرعزم تھے کہ ایسا کورونا وائرس کے معاملے میں نہیں ہو گا۔ انھوں نے اس طبی آزمائش کو بہت سادہ رکھا۔ وہ بہت کم تعداد میں دوبارہ تیار کردہ یا تجرباتی دوائیں آزماتے اور صرف ایک ہی سوال پوچھتے: کیا اس سے موت کا خطرہ کم ہو سکتا ہے؟

ان ادویات میں سے ایک، کم مقدار والی سٹیرائڈ دوا ڈیکسامیتھازون تھی، جس کو سنہ 1960 سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پہلے اسے ایک خطرہ سمجھا گیا کیونکہ اس وبا کے آغاز میں زیادہ تر بین الاقوامی گائیڈ لائنز میں کووڈ 19 کے لیے سٹیرائڈز کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی گئی تھی۔ سارس اور مرس کے مہلک وائرس کے دوران بھی سٹیرائڈز کا استعمال کیا گیا تھا اور اس کے ملے جلے نتائج سامنے آئے تھے۔

ڈیکسامیتھازون کے بارے میں مختلف طرح کے خدشات تھے کہ اس سے بیماری میں مزید شدت آ سکتی ہے، اس کا استعمال مرض کا دورانیہ بڑھا سکتا ہے یا اس سے وینٹی لیٹر پر موجود مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پروفیسر مارٹن لینڈرے کہتے ہیں ’ہمیں کچھ سینئر ڈاکٹروں نے پیغامات بھی بھیجے کہ آپ کو یہ نہیں کرنا چاہیے اور یہ بھی کہ وہ مریض جو ایک انفیکشن سے لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے مدافعتی نظام کو کمزور کرنا کوئی عقل مندانہ اقدام نہیں۔‘ پروفیسر لینڈرے کہتے ہیں ’لیکن حقیقت یہ تھی کہ کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ڈیکسامیتھازون فائدہ مند ہو گی یا نقصان دہ۔‘

طبی آزمائش کی کمی تھی اور اسی کے ذریعے ہی ٹھوس نتائج پر پہنچا جا سکتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جن مریضوں کو ڈیکسامیتھازون دی گئی تھی ان کی زندگی یا موت کا موازنہ ان سے کیا جائے جن کو یہ دوا نہیں دی گئی۔ ’ریکوری‘ ٹیم کو جولائی تک کسی قسم کے نتائج جاری کرنے کی امید نہیں تھی لیکن ایک ہفتے پہلے ڈیکسامیتھازون سے متعلق اعدادوشمار سامنے آئے۔

کورونا وائرس کے دو مختلف مراحل ہیں۔ زیادہ تر لوگ صرف پہلے مرحلے میں سے گزرتے ہیں جہاں وائرس جسم میں داخل ہوتا ہے اور مدافعتی نظام مؤثر ردعمل ظاہر کرتا ہے لیکن کچھ لوگوں کے لیے انفیکشن کے ایک ہفتے بعد یہ بیماری اپنے شکل بدلنے لگتی ہے۔ مدافعتی نظام ضرورت سے زیادہ ردعمل ظاہر کرتا اور سوزش کا باعث بنتا ہے۔ اس مرحلے پر وائرس نہیں بلکہ جسم کا اس انفیکشن کی جانب اپنا ردعمل ہی پھیپھڑوں میں نقصان کا سبب بنتا ہے۔

طبی آزمائش سے یہ پتا چلا کہ ڈیکسامیتھازون ہسپتال میں داخل صرف ان مریضوں کی مدد کرتی ہے جنھیں مصنوعی تنفس کی ضرورت ہو یا جو وینٹی لیٹر پر ہوں۔ یہ مدافعتی ردعمل کو کم کر دیتی ہے اور پھیپھڑوں کو صحت یاب ہونے کا ایک بہتر موقع فراہم کرتی ہے۔

یہ کوئی جادو کی گولی نہیں۔ کووڈ آزمائش میں وینٹی لیٹر پر موجود ہر 100 مریضوں میں سے 40 مر جاتے ہیں لیکن ڈیکسامیتھازون سے یہ تعداد کم ہو کر 28 ہو جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ زیر علاج ہر آٹھ مریضوں میں سے ایک کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ ایسے افراد جنھیں آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، ان میں ہر 100 میں سے 25 مریض مر جاتے ہیں لیکن ڈیکسامیتھازون کے استعمال سے یہ تعداد کم ہو کر 20 ہو جاتی ہے۔

مرنے والوں کی یہ تعداد ابھی بھی بہت زیادہ ہے لیکن ابھی یہ آغاز ہے اور اس سے ڈاکٹروں، مریضوں اور ان کے خاندانوں کو امید ملی ہے۔ اس کے تنیجے میں بہتر دوائیں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ راتوں رات یہ دوا دیکھ بھال کا ایک معیار بن گئی اور این ایچ ایس کے آکسیجن یا وینٹیلیٹر پر موجود کووڈ 19 کے مریضوں کو یہ دوا دی گئی۔

عالمی ادارہ صحت نے اس کو ’زندگی بچانے والی سائنسی پیشرفت‘ قرار دیا کم از کم اس لیے کہ یہ انتہائی سستی ہے اور دنیا بھر میں اسے مختلف بیماریوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں ان نتائج کو کچھ شکوک و شبہات کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا اور بہت سے ماہرین نے کہا کہ وہ اسے صرف اس صورت میں قبول کریں گے اگر اعدادوشمار شائع کیے جائیں اور ان کا جائزہ لیا جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسی آزمائشوں کے نتائج اکثر میڈیکل کانفرنسوں میں جاری کیے جاتے ہیں۔ آکسفورڈ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ چند ہفتوں کے اندر نتائج شائع کرے گی۔

ایک اور اینٹی وائرل دوا ریمڈسیور بھی ہے، جو کورونا وائرس سے جلد شفایابی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ دوا کووڈ 19 کی علامات کے دورانیے کو 15 سے 11 دن پر لانے میں کامیاب رہی ہے۔ تقریباً ایک ہزار مریضوں پر کی گئی طبی آزمائش میں، یہ مرنے کا خطرہ کم کر دیتی ہے لیکن یہ اعدادوشمار کے لحاظ سے اہم نہیں تھا۔ ریمڈیسویر کو ایک امریکی فارما کمپنی جیلیڈ سائنسز نے تیار کیا تھا اور اس کی رسد بھی کم ہے۔ اسے ’ریکوری‘ ٹرائل سے خارج کر دیا گیا کیوںکہ اس کی مناسب مقدار میں خوراک دستیاب نہیں تھی۔

اگرچہ جیلیڈ اس وبائی مرض کے دوران لاکھوں خوراکیں عطیہ کررہی ہے لیکن ایک موقع پر اسے اس دوائی کی قیمت مقرر کرنے کی ضرورت ہو گی۔ ایک چیز تو یقینی ہے کہ یہ ڈیکسامیتھازون کی طرح سستی اور باآسانی دستیاب نہیں ہو گی۔ ’ریکوری‘ ٹرائل ایک اور اینٹی وائرس کے ساتھ ساتھ ایک اینٹی بائیوٹک اور کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے عطیہ دہندگان سے ملنے والے پلازما پر بھی غور کر رہی ہے۔

گزشتہ ہفتے ملیریا کی دوا ہائیڈرو آکسی کلوروکوین کو ’ریکوری ٹرائل‘ سے ہٹا دیا گیا تھا کیونکہ اس کے فوائد کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔ ڈبلیو ایچ او نے بھی اس کی طبی آزمائشوں کو روک دیا ہے۔ پروفیسر ہاربی اور لینڈرے اس بات پر زور دینے کے خواہاں ہیں کہ ’ریکوری‘ ٹرائل ایک ٹیم کی کاوش ہے جس میں آکسفورڈ سے 20 افراد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں برطانیہ بھر سے 3500 ڈاکٹر، نرسیں، ریسرچ اور ایڈمن سٹاف کے علاوہ وہ مریض بھی شامل ہیں، جن کے بغیر کوئی بھی طبی پیشرفت ممکن نہیں تھی۔

ایسے مریض جن کی حالت کچھ بہتر تھی، ان سے ان کی رضامندی پوچھی گئی اور اس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ انھیں یہ دوا دی جائے یا نہیں۔ زیادہ تر کیسز میں یہ اہل خانہ ہی تھے جنھیں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ ہسپتال آنے کی اجازت نہ ہونے کے باوجود انتہائی دباؤ میں اپنے پیاروں کے لیے یہ فیصلہ کرنا ان کے یقین کی انتہا تھی۔

پرفیسر لینڈرے کہتے ہیں ’میں اس میں شامل ہر ایک شحض سے یہ کہتا ہوں کہ ان نتائج کے بارے میں، جو ہم دے رہے ہیں، انھیں گرمجوشی کا احساس ہونا چاہیے کیونکہ اس طرح سے ہی ہم تحقیق کو آگے بڑھاتے ہیں۔‘

(بشکریہ بی بی سی اردو)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں