6

ملک میں ہسپتال بنانے کیلئے پیسے مانگتے ہوئے شرم نہیں آئی ، شرم تب آئی جب دوسرے ملکوں سے قرضہ مانگا ، وزیراعظم کا قومی اسمبلی میں خطاب

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ اپوزیشن سے کوئی دشمنی نہیں ،نہ بدلہ لینا چاہتا ہوں،اگر احتساب نہیں ہوگا تو یہ بنانا ری پبلک بن جائیگا،حکمران جب تک جوابدہ نہیں ہوتے ملک ترقی نہیں کرسکتا ،امرا طبقات پیسے باہر لیکر جاتے ہیں ،میرے اوپر لندن فلیٹس کا الزام آیا میں نے چالیس چالیس سال پرانے حساب دیئے ،نیب ہم نے تو نہیں بنائی گالیاں روز مجھے پڑتی ہیں ،
میں چاہتا ہوں پارلیمنٹ چلے،کورونا وائرس سے متعلق فیصلوں میں حکومت میں کوئی کنفیوژن نہیں، 13 مارچ سے آج تک میرے کسی بیان میں تضاد نہیں

،کورونا کے معاملے پر لاک ڈاؤن کے فیصلے مرکزی سطح پر ہونے چاہیے تھے،بیرونی دنیا کو دیکھتے ہوئے صوبوں نے لاک ڈائون کرنا شروع کردیا اور ہم کوئی مشترکہ پالیسی نہ بنا سکے ،اگلا مرحلہ بڑا مشکل ہے، ایس اوپیز کی پیروی کرنا ہوگی،اب بھی احتیاط نہ کی تو ہمارے ہسپتالوں پر دبائومزید بڑھ جائیگا اور ہم بہت مشکل میں پڑ جائیں گے،،ٹڈی دل پاکستان کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں ،کئی چیزیں ہماری ہاتھ میں نہیں افریقہ سے غیر معمولی جھنڈ آرہے ہیں ، ایران اور بھارت سے بھی ٹڈی دل کا خطرہ ہے، پوری قوم ملکر اس کا مقابلہ کریگی ، ہم کورونا کے پیچھے نہیں چھپ رہے ہیں ، ہمیں بیمار معیشت ملی ،تیس ہزار ارب روپے قرض میں ملک ملا جو پیسہ اکٹھا کیا آدھا قرضوں میں چلے گا، دوسرے ممالک سے پیسے مانگتے ہوئے مجھے شرم آئی ہے ،وزیر اعظم باپ کی طرح ہوتا ہے ، میں بھی واشنگٹن گیا ،میرا خرچ ، نواز شریف اور آصف زرداری کے اخراجات کا موازنہ کرلیں ،پاکستان میں ترقی کے حوالے سے یکساں پالیسی اپنائیں گے ،فاٹا کو پوری ایلوکیشن اور بلوچستان کو ریکارڈ فنڈز فراہم کرینگے ،چاروں صوبوں نے وعدہ کیا تھا این ایف سی ایوارڈ سے فاٹا کو حصہ دینگے ،
بھارت پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے،فاٹا کو ہندوستان ٹارگٹ کررہا ہے اس لئے صوبے توجہ دیں ،ملک میں انگلش میڈیم، اردو میڈیم اور دینی مدارس کا الگ الگ نظام ہے، مارچ 2021 میں پورے پاکستان میں یکساں مصاب لاگو ہوگا،ہماری حکومت کی سب سے بڑی کامیابی خارجہ پالیسی ہے،آج ہم کسی کی جنگ نہیں لڑرہے ہیں ،ہم پر دوغلا پن کا الزام بھی نہیں لگ رہا ہے ،
ہم سعودی عرب اور ایران کے درمیان صلح کا کردار ادا کررہے ہیں،کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے تو بھارت اور پاکستان کے درمیان بہت مواقع ہیں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ ٹڈی دل پر 31 جنوری سے ایمرجنسی نافذ کی ہوئی ہے ،یہ بہت بڑی تھریٹ ہے، پوری قوم اس کا مل کر مقابلہ کرے گی۔انہوںنے کہاکہ ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے ضروری اقدامات کر رہے ہیں،
ٹڈی دل کا ایک بڑا جتھہ افریقہ سے آرھا ہے، اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے ملک پر رحم کرے، پوری قوم اس کا مقابلہ کریگی۔ انہوںنے کہاکہ جب پاکستان میں کورونا کے چھبیس کیسز ہوئے تو ہم نے لاک ڈائون کیا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور بھارت کی صورتحال دیگر یورپی ممالک سے مختلف ہے ،نیوزی لینڈ کی مثال نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہاں آبادی پھیلی ہوئی ہے ،پاکستاں میں کچی آبادیاں، بڑی آبادیاں اور غریب افراد ہیں ،
ہم نے پہلے بھی کہا تھا ہم نے عوام کو بھوک سے بچانا ہے ،مجھ پر بہت زیادہ دباؤ تھا خود میری کابینہ کا مجھ پر پریشر تھا ،ہندوستان کے لاک ڈاؤن کے بعد مجھ پر دباؤ زیادہ بڑھ گیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ برازیل نے لاک ڈاؤن نہیں کیا وہاں 5 ہزار لوگ مر گئے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ کہا جاتا ہے کہ ہماری حکومت ابہام کا شکار تھی ، اگر ملک میں کسی حکومت میں ابہام نہیں تھا تو وہ ہمارا ملک اور
ہماری حکومت تھی ،13 مارچ سے اب تک میری کسی ایک بات میں بتادیں کہ میں نے تضاد برتا ہو ،آپ اگر سنگاپور کی طرح ہوتے تو پھر بہترین چیز کرفیو تھی مگر پاکستان کی صورتحال مختلف تھی،لاک ڈاؤن کے فیصلے مرکزی سطح پر ہونے چاہیے تھے، عمران خان نے کہاکہ بیرونی دنیا کو دیکھتے ہوئے صوبوں نے لاک ڈائون کرنا شروع کردیا ،ہم کوئی مشترکہ پالیسی نہ بنا سکے ۔ انہوںنے کہاکہ
میں نے پہلے دن سے سوچاکہ امریکہ چین جیسے ممالک جیسا لاک ڈائون کیسے کردیں ؟جب ڈیٹا سامنے آتا گیا تو فیصلے ضرورت کے مطابق لینا پڑتے گئے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ میری کابینہ میں بہت سے وزرا سخت لاک ڈائون چاہتے تھے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ این سی او سی ادارے کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،یہ ادارہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کا مرکز بن گیا ،مرکز اور صوبوں میں رابطہ کاری کی ،
این سی او سی کے فیصلوں سے ہم تضادات سے بچ گئے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ صوبوں کے ساتھ مکمل کوآرڈینیشن تھی، ہرروز میٹنگ کے ذریعہ ڈیٹا اکٹھا کیا گیا،ہمارے فیصلوں میں کہیں کوئی تضاد نہیں آیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ بھارت میں مکمل لاک ڈائون سے چونتیس فیصد لوگ انتہائی غربت میں چلے گئے،بھارت میں کورونا وائرس ہم سے زیادہ تیزی سے پھیل رھا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم روزانہ میٹنگ کرکے یہاں تک پہنچے ہیں،
ہمارے سامنے بڑا مشکل مرحلہ ہے،ایک ماہ میں ہم نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں تو ہم صورتحال پر قابو پالیں گے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ دنیا کا سب سے امیر ملک امریکہ بھی مجبوری میں لاک ڈائون کھول رھا ہے،ہم نے سب سے پہلے سمارٹ لاک ڈائون کا سلسلہ شروع کیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہمارے ملک پر اللہ کا بڑا کرم ہے، اگلا مرحلہ بڑا مشکل ہے، ایس اوپیز کی پیروی کرنا ہوگی،احتیاط نہ کی گئی تو ہمارے ہیلتھ سیکٹر پر پریشر مزید بڑھے گا،ہمیں اپنے بوڑھوں بیماروں کو بچانا ہے، کورونا بڑی خطرناک بیماری ہے،
جو چار ہزار پاکستانی جاں بحق ہوئے ان کے لئے دعا کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ احتیاط کرنا ضروری ہے اگر بے احتیاطی کی گئی تو ہم بہت مشکل میں پڑ جائیں گے۔ عمران خان نے کہاکہ سرکاری ادارے دن رات کام کرتے تھک چکے ہیں ،ہم نے ایس او پی عمل کے لئے ٹائیگر فورس کو انتظامیہ کی مدد پر لگایا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ دنیا کی معیشت کو بارہ کھرب ڈالر کا نقصان ہوچکا ،
برطانیہ کی معیشت بیس فیصد نیچے چلی گئی ۔ و زیر اعظم نے کہاکہ ہمیں کہتے ہیں ہم کرونا کے پیچھے چھپ رہے ہیں،ہم کورونا کے پیچھے نہیں چھپ رہے ہیں،ہم نے 13 مارچ سے اکانومی بند کی مگر ہم نے اسے جلد کھول دیا ،ساری دنیا کی طرح ہماری بھی معیشت کو نقصان پہنچا ہے البتہ سمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہم نے کافی حد تک بہتری کی ہے،اس وقت سیاحت اور ائر لائنز سیکٹر شدید متاثر ہوا ہے۔
وزیر اعظم نے کہاکہ آج کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کب تک کرونا چلے گا ،ہمیں جو معیشت ملی تھی وہ یہ تھی ،بیس ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ تھا ،دنیا دیکھتی ہے کہ کس ملک سے ڈالر جارہے ہیں یا آرہے ہیں ،ہمیں بیمار معیشت ملی ،ہماری درآمدات 60ارب ڈالر تک تھی مہنگائی کیسے نہ ہوتی ،ڈالر ایک سو چار پہ تھا ہمیں ایک سو بائیس پر ملا ،جب ایڈجسٹمنٹ ہوئی تو ایک بار مہنگائی تو آنی تھی ،
دوہزار تیرہ میں سولہ ہزار ارب تھا ،ہمیں حکومت ملی تو تیس ہزار ارب روپے قرض میں ملک ملا ،جو ٹیکس اکٹھا کیا وہ آدھا قرضوں میں چلا گیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ کرونا کی وجہ سے دنیا کو 13 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے ،ہمیں کوئی سوئٹزرلینڈ کی معیشت نہیں ملی تھی ،جب ایسی معیشت ہو تو غربت آئے گی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ 30 سال سے سب سے زیادہ فنڈ ریزنگ میں نے کی، کبھی ہسپتالوں،
یونیورسٹیز کے لئے پیسے مانگنے پر کبھی شرم نہیں آئی ،کیونکہ میں نے اپنے لوگوں سے پیسے مانگتے تھے ،جب ہم ملک کیلئے غیروں کے آگے گئے تو بہت زیادہ شرم محسوس ہوئی ،اس کے باوجود ملک کو دیوالیہ سے بچانے کے لئے دنیا کے ملکوں میں پیسے مانگنے گئے تھے ،ملک کا وزیراعظم ملک کا باپ ہوتا ہے اور قوم اسکے بچے ہوتے ہیں ،اگر بچے بھوکے ہوں، علاج نہ کرواسکتے
ہوںتو آپ بادشاہ کی طرح نہیں رہ سکتے ،جب میں واشنگٹن گیا تو میرا خرچ ، نواز شریف اور آصف زرداری کے اخراجات کا موازنہ کرلیں ،ایک طرف ہم پیسے مانگ رہے ہوں تو دوسری طرف ہم پیسے خرچ کررہے ہوں ،انہوںنے کہاکہ یو این او میں زرداری نے 13 لاکھ ڈالر، نواز شریف نے 11 لاکھ ، شاہد خاقان نے 7 لاکھ اور میں نے ایک لاکھ 62 ہزار ڈالر خرچ کئے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ میں نے
534وزیر اعظم ملازمین سے آدھے کردیئے ،مزید کم ہوسکتے ہیں مگر بیروزگار ی کا خطرہ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سرکلر ڈیٹ 480ارب انہوں نے ادا کیا اور 1200ارب پر سرکلر چھوڑ کر گئے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جب آپ مقروض ملک ہوں دوسرے طرف آپ اخراجات بڑھاتے جائیں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ سٹیٹ بینک سے 6 ہزار ارب روپے قرض تھا ہم نے اس کو ختم کردیا ،ہم نے شارٹ ٹرم قرض کو
تبدیل کرتے ہوئے لانگ ٹرم کردیئے ،گیس، بجلی اور دیگر معاہدے ہم نہیں ہم سے پہلے حکومتیں کرکے گئیں ،ہمیں بڑے بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔انہوںنے کہاکہ 20 ارب ڈالر سے آج 3 ارب ڈالر پر گردشی قرض ہے، پرائمری قرض ختم ہوچکا ہے کیونکہ ہم نے کفایت شعاری اپنائی ،ہم نے وفاقی کابینہ کے خرچ کم کئے، پاک آرمی نے اپنے خرچ کم کئے حالانکہ ہندوستان دفاعی بجٹ بڑھا دیا ،ہم نے احساس پروگرام دیا
اور 208 ارب روپے دیئے ،کورونا سے پہلے 17 فیصد ٹیکس بڑا، بیرونی سرمایہ کاری 1 ارب ڈالر سے 2 ارب ڈالر سے بڑھ گئی ،اب تک ہم پانچ ہزار ارب روپے قرض واپس کرچکے ہیں جو پچھلی حکومتوں نے لئے تھے۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہماری ساری توجہ زراعت پر ہے ،تعمیرات ہماری اولین ترجیح ہونگی،بیجوں کی ڈویلپمنٹ کے لئے چین سے مکمل رابطے میں ہیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے مشکل حالات میں بھی پی ایس ڈی پی کا بجٹ کم نہیں کیا،صنعت کے لئے خام مال پر بالکل ڈیوٹی اٹھالی ہے۔
وزیر اعظم نے کہاکہ کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرتا جب تک غربت کی لکیر کم نہ ہو ،144 ارب روپے غیر سیاسی بنیادوں پر عوام تک پہنچایا، ایک کروڑ 60 لاکھ خاندان اس سے مستفید ہونگے،فلاحی ریاست کی طرف ہم جائینگے، اب تک ہم 200 پناہ گاہیں تعمیر کرچکے تاکہ مزدور کی رہائش اور خوراک کا مسئلہ حل ہو،ہم پناہ گاہ کو پورے ملک میں پھیلائینگے، انصاف کارڈ ایک کروڑ افراد کو پہنچائیں گے۔
وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان میں ترقی کے حوالے سے یکساں پالیسی اپنائیں گے ،فاٹا کو پوری ایلوکیشن اور بلوچستان کو ریکارڈ فنڈز فراہم کرینگے ،چاروں صوبوں نے وعدہ کیا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ سے فاٹا کو حصہ دینگے ،صوبوں سے درخواست کرونگا کہ فاٹا کے لئے پیسے دیں کیونکہ ہندوستان ہمارے ملک میں مداخلت اور عدم استحکام کی کوشش کررہا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ بھارت کی انتہا پسند حکومت کی کوشش ہی یہ ہے کہ وہ پاکستاں میں عدم استحکام پیدا کرے ،فاٹا کو ہندوستان ٹارگٹ کررہا ہے
اس لئے صوبے اس طرف توجہ دیں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ وزیر تعلیم شفقت محمود کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،پاکستان میں تین قسم کا نصاب اور کلچر متعارف کرایا گیا تھا ،مارچ 2021ء میں یکساں نصاب پورے ملک میں نافذ ہوجائیگا ،دینی مدارس کو مین سٹریم میں لانے بارے کسی نے نہیں سوچا مگر شفقت محمود نے مدارس کے ساتھ مشاورت کے ساتھ یہ اقدام اٹھایا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہماری حکومت کی سب سے بڑی کامیابی خارجہ پالیسی ہے،امریکہ سے ہمارے تعلقات بہت بہتر ہوئے ہیں، وار آن ٹیرر میں ان کا
ساتھ دینے کے باوجود ہمیں برابھلا کہا گیا، دو واقعات ایک اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں ہلاک کیا گیا، ہمیں برا بھلا کہا گیا اور ہمیں ذلت کا نشانہ بھی بنایا گیا،ہمارے اوپر ڈرون حملے کئے گئے، کہا گیا حکومت پاکستان کی اجازت سے یہ حملے کئے گئے،،ہمیں یہ ہی پتانہیں تھا کہ ہم ان کے اتحادی تھے یا مخالف تھے،ہم نے حکومت میں آتے ہی کہا ہم جنگ نہیں امن میں شرکت کریں گے ،آج ہم کسی کی جنگ نہیں لڑرہے ہیں ،
آج ہم پر دوغلا پن کا الزام بھی نہیں لگ رہا ہے ،آج ٹرمپ عزت دیتا ہے اور افغانستان میں مدد کی درخواست کرتا ہے ،آج ہماری بات امریکہ کو ماننا پڑی اور امن عمل ہورہا ہے ،امریکہ سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں ایران ہمارا ہمسایہ ہے ،سعودی عرب اور ایران دونوں نے ہمیں صلح کرانے کے لئے کہا ہے ،ہم سعودی عرب اور ایران کے درمیان صلح کا کردار ادا کررہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ کوئی جنگ کبھی کسی
مسئلہ کا حل نہیں ہوتا، ہم دونوں ممالک کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے تو بھارت اور پاکستان کے درمیان بہت مواقع ہیں،بھارت میں بہت تکبر تھا، بھارت میں انتخابات سے پہلے سخت لہجہ اختیار کیا گیا،پانچ اگست کو کشمیر کو غیرقانونی طریقہ سے بھارت کا حصہ قراردینے کی کوشش کی گئی،ہمارا ہندوتوا کی آئیڈیالوجی کا مقابلہ ہے، بھارت ہمیں دباکر رکھنا چاہتے ہیں،
اب بھارت نے کئی جگہ پر آزادکشمیر کو اپنے اندر دکھانے کی کوشش کی ہے،اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا،مودی بہت بڑا جنونی ہے، یہ عام بندہ نہیں جنونیت پسند ہے،آر ایس ایس کی نازیوں کے ساتھ رابطوں کی بات کی،بھارت پر بہت زیادہ تنقید آج مل رہی ہے، آج پاکستان کو بہتر میڈیا مل رھا ہے،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 1965کے بعداب دومرتبہ کشمیر کا مسئلہ اٹھایا گیا کشمیر ایشو آج دنیا کے
اندر بھرپور انداز میں اٹھایا جارہا ہے، ہم اس ایشو کو آگے لے کر جائیں گے،کشمیر کی موومنٹ اب رک نہیں سکتی،کوئی بھی قوم کی ایک وژن کے بغیر نہیں چل سکتی،پاکستان کا بھی اسلامی فلاحی ریاست کا وژن ہے، ہم نے پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کرنا ہے،یہ ایک اسلامی فلاحی ریاست مدینہ کی ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا ،حضور اکرم کا کام تبلیغ تھا اور اسلام میں کوئی جبر نہیں،
ایمان اللہ کی نعمت ہے جسے دے جسے نہ دے ،قائدِ اعظم اور علامہ اقبال کے افکار کو پڑھنا ہوگا ،جو بھی ریاست مدینہ کی اصول پر چلے وہ اٹھ جائیگی ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ چین نے بھی ریاست مدینہ سے سیکھا اور آج وہ کامیاب ہوگیا ،مدینہ ریاست کا دوسرا بڑا اقدام میرٹ پر تھا ،جنگ بدر کے 11 اور 12 سال بعد قیصر و کسریٰ کی سپر پاورز گر گئیں، کچھ ایسا ہوا تھا کہ یہ طاقتیں گر گئیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ
آج تک کوئی معاشرہ قانون کی بالادستی کے بغیر آگے نہیں جاسکتا ،حضرت علیؓ یہودی سے کیس ہار جاتے ہیں ،حضرت عمر سے قمیض کا سوال ہوسکتا ہے ،حکمران جب تک جوابدہ نہیں ہوتے ملک ترقی نہیں کرسکتا ،ایک ہزار ارب روپے غریب ملکوں سے باہر جاتا ہے ،امرا طبقات پیسے باہر لیکر جاتے ہیں ،جب سے آیا ہوں کسی سے میری کوئی دشمنی نہیں ،جب تقریر کرنے آتا ہوں شور کیا جاتا ہے ۔
وزیر اعظم نے کہاکہ جب تک درست احتساب نہ کیا تو غریبوں کو تعلیم صحت کیسے دے سکتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ریکوڈک کرپشن کی وجہ سے مسئلہ بنا ،کارکے پلانٹ پر ترک صدر نے بچایا ،میرے اوپر لندن فلیٹس کا الزام آیا میں نے چالیس چالیس سال پرانے حساب دیئے ،میں نے کسی سے کہا میرے خلاف سیاسی انتقام لیا جارہا ہے ،حلال کی کمائی کا پیسہ باہر سے لایا اس کا بھی جواب دیا ،لیڈر کو جواب دینا پڑتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ نیب ہم نے تو نہیں بنائی گالیاں روز مجھے پڑتی ہیں ،میں چاہتا ہوں
پارلیمنٹ چلے کیونکہ بحث ہی مسائل کا حل نکالتی ہے ،میں نے تو نیب نہیں بنائی ،اگر اقتدار میں رہنے والے جواب نہیں دیں گے تو عام آدمی حساب کیوں دے گا ۔ انہوںنے کہاکہ امریکہ کی رپورٹ کے مطابق ہر سال دس ارب ڈالر باہر جاتا ہے ،چھ ارب ڈالر قرضوں کے لئے جاتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ چینی انکوائری کرائی ،چینی تحقیق کے دوران پتہ چلا کہ چینی کی قیمت خود شوگر ملز طے کرتی ہیں ،29
ارب کی سبسٹسدی لی نوارب کا ٹیکس دیا ،جو شوگر سٹاک پڑے وہ ظاہر نہیں ہوتے ،افغانستان چینی بھیجنے کا کہاجاتا اور چینی یہاں ہی رہتی ،سبسٹسدی بھی لے لی اور چینی بھی برآمد نہیں کی ۔ انہوںنے کہاکہ چین کے صدر نے میرے کہنے پر چینی تو لے لی مگر کہا چینی کم معیاری اور مہنگی بھی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جمہوریت میرٹ اور احتساب سے آگے بڑھتی ہے اور قانون کی بالادستی کے بغیر کوئی معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا،حکمران کا احتساب نہیں ہوگا تو ملک ترقی نہیں کرسکتا،اگر یہاں احتساب نہیں ہوگا تو یہ بنانا ری پبلک بن جائیگا۔

موضوعات:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں