7

’’ہائی رسک‘‘ دورۂ انگلینڈ

 راہداری کھولنے کے لیے بھارت کو یاتریوں کی رجسٹریشن کا عمل پہلے شروع کرنا پڑتا ہے۔

راہداری کھولنے کے لیے بھارت کو یاتریوں کی رجسٹریشن کا عمل پہلے شروع کرنا پڑتا ہے۔

’’محمد حفیظ، فخر زمان، محمد رضوان اور فلاں فلاں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں‘‘

چند روز پہلے کی بات ہے جب ویڈیو کانفرنس میں سی ای او پاکستان کرکٹ بورڈ وسیم خان ایک فہرست ایسے پڑھ رہے تھے جیسے اولمپک گولڈ میڈلسٹ پلیئرز کا اعلان کر رہے ہوں،اس وقت مجھے سخت حیرت ہوئی تھی کہ پہلے ٹیسٹ کے بعد ہی نام کیسے ظاہر کر دیے گئے، آپ انگلش پریمیئر لیگ فٹبال یا دیگر کھیلوں میں دیکھ لیں بہت کم ایسے کھلاڑیوں کے نام بتائے جاتے ہیں، خود پی سی بی نے جب پی ایس ایل ملتوی کی تو ’’ایک غیرملکی‘‘ کرکٹر پرکورونا پازیٹیو ہونے کا شک ظاہرکیا۔

اس کا نام بعد میں رمیز راجہ نے اپنی ٹویٹ میں بتایا،اب بورڈ کو نجانے کس نے مشورہ دیا کہ فوراً نام ظاہر کر دیے جائیں،اسی لیے دوسرے ٹیسٹ کا انتظار بھی نہ کیا،اس پر محمد حفیظ نے بھی ایسا کام کیا جس سے نہ صرف بورڈ بلکہ ملک کی بھی بڑی بدنامی ہوئی، انھوں نے از خود ٹیسٹ کرایا اور اپنے گھر کے پتے اور فون نمبر والی رپورٹ ٹویٹر پر شیئر کر دی، لوگ انھیں پروفیسر پروفیسر کیا کہنے لگے وہ خود کو نجانے کیا سمجھنے لگے ہیں، نیگیٹیو رپورٹ آئی تھی تو اسے بورڈ سے شیئر کر کے دوسرے ٹیسٹ کا انتظار کرتے سوشل میڈیا پر جانے کی کیا ضرورت تھی۔

ان کی اس حرکت نے دنیا بھر میں پاکستان کے ٹیسٹنگ کے نظام پر سوال اٹھا دیے کہ ایک مشہورکرکٹر کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو عام آدمی کے ساتھ کیا ہوگا، وہاب ریاض بھی ازخود کرائے گئے ٹیسٹ میں کلیئر آئے مگر انھوں نے حفیظ والی حرکت نہیں کی، کورونا ہونا کوئی جرم نہیں ایسا کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے،اس میں ایسی کیا شرمندگی کی بات تھی کہ حفیظ نے خود کو کلیئرظاہر کرنے کیلیے ٹویٹر کا سہارا لے لیا، اس معاملے میں پی سی بی کی اتھارٹی بھی چیلنج ہوئی مگر وہ مشکل پوزیشن میں تھا، اگر حفیظ کے خلاف ایکشن لیا جاتا تو باتیں بنتیں، اس لیے خاموش رہنا مناسب سمجھا، یقیناً اس کیس میں بورڈ کی بھی غلطی ہے مگر حفیظ بھی برابر کے قصوروار ہیں، وہ اب 40 سال کے ہو چکے، کیریئر ختم اور اب بونس کی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

مالی پوزیشن بیحد مستحکم اور کچھ داؤ پر نہیں لگا اس لیے ایڈوینچرز کرتے رہتے ہیں مگر بورڈ بھی کمزور ہے کچھ نہیں کر سکتا،10کرکٹرز کے مثبت ٹیسٹ کیسے آئے، اس کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں، گروپس میں پریکٹس جاری رہی، پائپ پر منہ لگا کر پانی پیتے کرکٹرز کی ویڈیوز بھی سامنے آئیں، کوئی گالف کھیلتا رہا تو کسی نے ٹی وی شو میں شرکت کی، کہاں تھا اس دوران بورڈ؟ سوشل میڈیا پر لوگ مسلسل خدشات ظاہر کر رہے تھے مگر کسی کھلاڑی کو نہیں روکا گیا، آپ ماہانہ اتنی بھاری تنخواہ دے رہے ہیں تو کچھ تو روک ٹوک ہونی چاہیے تھی، خیر شکر ہے کہ بیشتر کرکٹرز کلیئر ہوگئے اور جلد انگلینڈ چلے جائیں گے۔

فی الحال تو پہلا گروپ وہاں پہنچ چکا اوراب 14روز قرنطینہ میں رہے گا، ویسے یہ دورہ کر کے بورڈ نے بڑا خطرہ مول لیا، ایک کھلاڑی کے کورونا پازیٹیو ہونے کا شک ہوا اور آپ نے پی ایس ایل ہی ملتوی کر دی،اب پوری ٹیم انگلینڈ بھیج رہے ہیں، یہ بات سمجھ سے باہر ہے، ان دنوں جو حالات ہیں ایسے میں جو جہاں ہے اس کیلیے وہیں رہنا مناسب ہے، انگلینڈ میں حالات اتنے اچھے نہیں اور اب لیسٹر میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن پر غور ہو رہا ہے،راشد لطیف نے درست کہا تھا کہ اب کرکٹ صرف پیسے کیلیے ہو رہی ہے۔

ہم اگر یہ سمجھیں کہ سیریز کا مقصد شائقین کو خوشیاں فراہم کرنا ہے تو ہم سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں ہوگا، اگر ویسٹ انڈیزاور پاکستان سے سیریز نہ ہوتیں تو انگلش بورڈ دیوالیہ ہوجاتا، ویسٹ انڈیز نے تو قرض لے لیا مگر پی سی بی نے ٹور کی یقین دہانی بھی نہیں لی، وسیم خان خود برطانوی ہیں شاید پاکستان سے واپس اپنے ملک جانے پر انھیں اس ’’احسان‘‘ کا کچھ صلہ مل جائے، فی الحال توکوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آتا، میں خود یہ چاہتا ہوں کہ کرکٹ کی بحالی ہونی چاہیے مگر اس کیلیے اپنے ہم وطنوں کو خطرے میں ڈالنا درست نہیں ہوگا، بظاہر انگلینڈ نے اچھے انتظامات کیے ہیں، امید ہے سیریز کا بخوبی انعقاد ہوگا اور کھلاڑی محفوظ رہیں گے۔

ویسے تو پی سی بی شعبہ میڈیکل کے سربراہ ڈاکٹر سہیل سلیم خود اس دورے کو ’’ہائی رسک‘‘ قرار دے چکے، ایسے میں اگر یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ پھر گئے کیوں؟ شاید ڈاکٹر صاحب نے ایسا کہہ کر اپنے اوپر سے ذمہ داری کم کی، خدانخواستہ اب اگر کوئی کیس ہوا تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ بھائی میں نے تو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کی جگہ اگر بھارتی ٹیم کو ان حالات میں انگلینڈ جانا ہوتا تو وہ ہرگز نہیں جاتے، موجودہ حالات میں اسپورٹس مقابلوں کا انعقاد خطرے سے خالی نہیں،اولمپکس تک ملتوی ہو چکے اورکرکٹ ورلڈکپ کا انعقاد بھی ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، فٹبال میچز آہستہ آہستہ ضرور شروع ہوئے ہیں مگر ان میں گیند کو ہاتھ میں نہیں لینا پڑتا اور ڈیڑھ گھنٹے میں مقابلہ ختم ہو جاتا ہے۔

کرکٹ میں خطرات زیادہ ہیں، اس لیے آپ دیکھ لیں اربوں روپے داؤ پر لگنے کے باوجود بھارت اب تک آئی پی ایل کرانے کا فیصلہ نہیں کر سکا، ورلڈکپ ملتوی ہونے پر اگر انعقاد ہوا بھی تو شایداسے کسی تیسرے ملک جانا پڑے، دنیا بھر میں کئی سیریز ملتوی ہو چکیں مگر پاکستان نے ’’کرکٹ کے وسیع تر‘‘ مفاد کیلیے اپنے کھلاڑیوں کو انگلینڈ بھیج دیا،پی سی بی جس طرح غیرملکی بورڈز کی مدد کر رہا ہے کچھ اپنے لوگوں کا بھی خیال کر لے، ہر کسی سے لڑائی چل رہی ہے، انٹرویوز اورپریس کانفرنس سے کچھ وقت ملے تو وسیم خان کچھ کرکٹ کی بہتری کا بھی سوچ لیں، چاہے پی ایس ایل، ڈومیسٹک کرکٹ یا کچھ اور ہو فی الحال تو معاملات ابتری کی جانب جاتے ہی دکھائی دے رہے ہیں، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں