12

پاکستان امن پسند ملک ،اگر جنگ تھوپی گئی تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے، آرمی چیف کا واضح پیغام

راولپنڈی (این این آئی)پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے ،اگر ہم پر جنگ تھوپی گئی تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے ،جس کا مظاہرہ ہم نے بالاکوٹ کے ناکام حملے کے جواب میں دیا۔اس لیے دْشمن کو کوئی شک نہ ہو،بے شمار قربانیوں کی بدولت، الحمدواللہ آج کا پاکستان ایک پرامن پاکستان ہے ، اب ہم نے امن کو خوشحالی اور ترقی میں تبدیل کرنا ہے،بحیثیت قوم ہمیں اس کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی، اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں کو اپنانا

ہوگا اور اپنے قائد کے فرمان کام، کام اور بس کام کو اپنانا ہوگا، افواج ِپاکستان نے اقوامِ متحدہ کی امن فوج کا حصہ بن کردنیا کے مختلف علاقوں میں قیام ِامن کیلئے بہت سی قربانیاں دی ہیںجس کی دنیا معترف ہے،افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، ہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان نے ہمیشہ کی طرح ایک غیرذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے، خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے غیرقانونی اقدام کے بعد خطے کے امن کو ایک مرتبہ پھر شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے، کوئی شک نہیں کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے، ہم کسی بھی یکطرفہ فیصلے کوتسلیم نہیں کرتے۔ہمیں نہ تو نئے حاصل شدہ اسلحے کے انبار سے مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہم پے کوئی دھمکی اثرانداز ہوسکتی ہے،فواج پاکستان پوری قوت سے لیس، چوکنا اور باخبر ہیں، اور انشاء اللہ،دشمن کی کسی بھی حرکت کا فوری اور پوری قوت سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔اتوار کو یوم دفاع کے موقع پر جی ایچ کیو میں مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ نے کہاکہ گزشتہ بیس سالوں میں ہم بڑی آزمائش سے گزرے ہیں،مشرقی و مغربی سرحدوں پر حالتِ جنگ کا سامنا رہا، زلزلے اور سیلاب جیسی آزمائشیں بھی درپیش رہیں۔دہشت گردی اور شدت گردی کے خلاف ہم نے اعصاب شکن جنگ لڑی، ہزاروں افراد کی قربانی دی اور لاکھوں دربدر ہوئے۔انہوں نے کہاکہ حال ہی میں کرونا جیسی وبا اور ٹڈی دل جیسی آفت کا بھی سامنا رہاجس کا ہم نے کامیابی سے مقابلہ کیا۔ آرمی چیف نے کہاکہ آزمائش کی ان تمام گھڑیوںمیں ہم حوصلہ نہیں ہارے بلکہ سینہ تان کر ڈٹ گئے جس کی بدولت اللہ نے ہمیں فتح دی۔ انہوں نے کہاکہ بے شک اس محنت اور بے شمار قربانیوں کی بدولت، الحمدواللہ آج کا پاکستان ایک پرامن پاکستان ہے اور اب ہم نے اس امن کو خوشحالی اور ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ بحیثیت قوم ہمیں اس کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں کو اپنانا ہوگا اور اپنے قائد کے فرمان کام، کام اور بس کام کو اپنانا ہوگا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ افواج ِپاکستان نے اقوامِ متحدہ کی امن فوج کا حصہبن کردنیا کے مختلف علاقوں میں قیام ِامن کیلئے بہت سی قربانیاں دی ہیںجس کی دنیا معترف ہے،ہم پوری دنیا اوربالخصوص اپنے خطے میں امن کے خواہاں ہیں،افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، تاہم ہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان نےہمیشہ کی طرح ایک غیرذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے، خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے غیرقانونی اقدام کے بعد خطے کے امن کو ایک مرتبہ پھر شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ مسئلہ ہے، اس حوالے سے ہم کسی بھی یکطرفہ فیصلے کوتسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے کہاکہ بانی ِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قراردیا تھا،میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ان کے اس قول کا ہر لفظ ہمارے لئے اہم اور ایمان کا حصہ ہےاس حوالے سے ہم کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے، ہمیں نہ تو نئے حاصل شدہ اسلحے کے انبار سے مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہم پے کوئی دھمکی اثرانداز ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ افواج پاکستان پوری قوت سے لیس، چوکنا اور باخبر ہیں، اور انشاء اللہ،دشمن کی کسی بھی حرکتکا فوری اور پوری قوت سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہاکہ وقت ہمیں کئی بار آزما چکا،ہم ہر بار سرخرو ہوئے ہیں،پاکستان ایک زندہ حقیقت ہے۔ ہمارا خون، ہمارا جذبہ، ہمارا عمل ہر محاذ پر اس کی گواہی دے گا۔ انہوںنے کہاکہ میں آج کے دن کی مناسبت سے اپنی قوم اوردنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن اگر ہم پر جنگ تھوپی گئی تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے جس کا مظاہرہ ہم نے بالاکوٹ کے ناکام حملے کے جواب میں دیا۔ اس لیے دْشمن کو کوئی شک نہ ہو۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین ۔آخر میں آرم چیف نے پاک فوج زندہ باد ،پاکستان پائندہ باد کانعرہ لگایا ۔

موضوعات:

بس میری اتنی درخواست ہے

آرمینیا دنیا کی پہلی ڈکلیئرڈ کرسچین سٹیٹ تھی‘ حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد عیسائی فلسطین سے ترکی میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے‘آرمینیا نے اپنے دروازے کھولے اور یہ دھڑا دھڑ یہاں آباد ہوتے چلے گئے‘ آرمینیا مختلف ادوار سے گزرتا ہوا 1920ء میں سوویت یونین کے قبضے میں چلا گیا اور یہ 1991ء میں آزاد ہو گیا‘ پاکستان ….مزید پڑھئے‎

آرمینیا دنیا کی پہلی ڈکلیئرڈ کرسچین سٹیٹ تھی‘ حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد عیسائی فلسطین سے ترکی میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے‘آرمینیا نے اپنے دروازے کھولے اور یہ دھڑا دھڑ یہاں آباد ہوتے چلے گئے‘ آرمینیا مختلف ادوار سے گزرتا ہوا 1920ء میں سوویت یونین کے قبضے میں چلا گیا اور یہ 1991ء میں آزاد ہو گیا‘ پاکستان ….مزید پڑھئے‎

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں