12

شمسی توانائی کے لیے سلیکن کو بھول جائیں، پروسکائٹ یاد رکھیں

آکسفرڈ یونیورسٹی کی ایک کمپنی اگلے برس سے  پروسکائٹ پر مبنی سولر سیل بنائے گی جو 28 فیصد کفایت سے بجلی بناسکیں گے۔ فوٹو: فائل

آکسفرڈ یونیورسٹی کی ایک کمپنی اگلے برس سے پروسکائٹ پر مبنی سولر سیل بنائے گی جو 28 فیصد کفایت سے بجلی بناسکیں گے۔ فوٹو: فائل

آکسفورڈ: وہ دن دور نہیں جب شمسی سیلوں کی تیاری کے لیے روایتی سلیکن کا استعمال کم ہوجائے گا کیونکہ اب اس سے زائد خوبیوں والے ایک اور مٹیریئل سے بہت امید افزا نتائج ملے ہیں۔

اس مادے کے گروپ کو مجموعی طور پر پروسکائٹس کہا جاتا ہے۔ یہ کم خرچ اور اتنے لچک دار ہوں گے کہ انہیں کاروں اور عمارتوں کے گرد لپیٹا جاسکتا ہے۔

1950ء سے منظرِ عام پر آنے والے بہترین سلیکن شمسی سیل بھی دھوپ کی 22 فیصد مقدار کو توانائی میں بدل سکتے ہیں تاہم آکسفرڈ یونیورسٹی میں تحقیق کے بعد قائم کی جانے والی ایک کمپنی آکسفرڈ پی وی نے پروسکائٹ کی ایک پرت عام سلیکن پر چڑھائی تو اس سے بننے والی شمسی سیل کی صلاحیت 28 فیصد تک پہنچ گئی۔

توقع ہے کہ بہت جلد اسے 40 فیصد یا اس سے بھی بلند سطح پر پہنچایا جاسکتا ہے۔ اگریہ ممکن ہوجاتا ہے تو آج کے بہترین شمسی سیل سے بھی دگنی صلاحیت کے سیل بنائے جاسکیں گے۔

اس طرح نصف سولر پینل عین اپنے سے دگنے پینل کے برابر کم خرچ بجلی فراہم کرسکیں گے۔ اس سے زمین، مزدوری اور دیگر اشیا کی زبردست بچت ممکن ہوسکے گی۔ اس پر تحقیق کرنے والے مرکزی سائنس داں، ہینری سنیتھ کہتے ہیں کہ پوری دنیا میں شمسی سیلوں کی افادیت بڑھانے پر کام ہورہا ہے اور ہم نے پروسکائٹ سے یہ کام لیا ہے۔

پروسکائٹ 1839ء میں دریافت ہوئے تھے اور انہیں زمین پر جگہ جگہ موجود سستی معدنیات سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ سلیکن پر لگانے کے بعد بادلوں اور کمرے کے اندر بھی بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت متاثر نہیں ہوتی۔ پروسکائٹ کو اب تھری ڈی پرنٹر سے بھی بنایا جاسکتا ہے۔

اس طرح انہیں بجلی کے کھمبوں، عام اشیا اور فرنیچر پر بھی لگایا جاسکتا ہے۔ آکسفرڈ پی وی کمپنی اگلے سال سے باقاعدہ تجارتی طور پر پروسکائٹ کی تیاری شروع کرے گی۔ اس کے لیے جرمنی میں ایک کمپنی بنائی گی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں گھریلو سولر پینل پر 1000 ڈالر کی بچت ممکن ہوسکے گی جبکہ توانائی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں