10

فصلوں کے معیار کا جائزہ لینے والے گوگل روبوٹ

گوگل نے کھیتوں کے لیے اپنے ذہین روبوٹ کو پہلی مرتبہ ٹیسٹ کیا ہے۔ فوٹو: بی بی سی

گوگل نے کھیتوں کے لیے اپنے ذہین روبوٹ کو پہلی مرتبہ ٹیسٹ کیا ہے۔ فوٹو: بی بی سی

کیلیفورنیا: گوگل کی ذیلی کمپنی ایلفابیٹ نے پہلی مرتبہ فصلوں اور پھلوں کے درختوں کی غذائیت، فصل کے معیار اور صحت کا جائزہ لینے کے لئے روبوٹ تیار کیا ہے۔ پروجیکٹ منرل کے نام سے روبوٹ نے پہلی مرتبہ فصلوں کا جائزہ بھی لیا ہے۔

ان روبوٹ کا مقصد فصلوں کی دیکھ بھال اور معیار برقرار رکھنے میں کسانوں کی مدد کرنا ہے ۔ روبوٹ کو کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ فصلوں کے اوپر سے گزرتے رہتے ہیں جس میں فصلوں کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

اس دوران روبوٹ کے کیمرے اور دیگر اقسام کے سینسر کھیت سے ڈیٹا کی بڑی مقدار حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اس عمل میں وہ ایک ایک پودوں کی انفرادی کیفیت کو نوٹ کرتے رہتے ہیں۔  یہ ایلفابیٹ ایکس کمپنی کا منصوبہ ہے جس کا مقصد دنیا سے غذائی قلت کا خاتمہ کرنا ہے اور کسانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنا ہے۔

گوگل ٹٰیم کا بیان ہے کہ دنیا کو اس وقت غذائی قلت کی کمی درپیش ہے جبکہ پائیدار اور ماحول دوست زراعت کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے اور اس ضمن میں ان کے روبوٹ بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ موجودہ زراعت میں رائج آلات کسانوں کی ضروریات پوری نہیں کرپاتے۔

منصوبے سے وابستہ اہم ماہر گرانٹ نے بتایا کہ ہر پودے کو دی جانے والے اجزا اور پودوں کی غذائیت کے  بارے میں جانا جاسکتا ہے۔ اس طرح کسی فصل پر اثرانداز ہونے والے موسمیاتی اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ بھی لینا ممکن ہے۔

ان روبوٹ کی افادیت پہلے بھی ثابت ہوچکی ہے۔ چند برس قبل دوسری کمپنی کے تیارکردہ روبوٹ سے کیلیفورنیا میں اسٹرابری کے باغات جانچے گئے۔ روبوٹ پھلوں کی تفصیلی تصاویر لیتا اور ہر پھل کو شمار کرکے اس کے معیار کا جائزہ لیا کرتا تھا۔ دوسری جانب اب گوگل کا روبوٹ پیڑ کی بلندی، پتے کا رقبہ اور پھل کی جسامت بھی نوٹ کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ خود مٹی کی خبر بھی لیتا رہتا ہے۔

پروجیکٹ منرل کا ڈیٹا مشین لرننگ کلاؤڈ پر چلاجاتا ہے اور وہاں عام ڈیٹا کو قابلِ قدر معلومات یا منصوبہ بندی میں بدلا جاسکتا ہے۔ ایک کسان کے مطابق اگر فصلوں میں ایک سے دو فیصد بہتری ہوتی ہے تو اس کے بھی بہت اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں