10

حرام نہ ہوتی تو میں سپریم کورٹ کے سامنے خودکشی کر لیتی معروف خاتون جج پھٹ پڑیں چیف جسٹس کو لکھا گیا کھلا خط منظر عام پر آگیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب سے تعلق رکھنے والی خاتون ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈاکٹر ساجدہ احمد نے چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو لکھے ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ عدلیہ کا حصہ بننے کی بجائے بہتر یہ ہوتا کہ وہ اپنے گائوں میںچوپایہ پالتیں اور اپلے تھونپتیں؛ کیونکہ عدلیہ کا حصہ بننے کی وجہ سے انہیں نام نہاد وکلا کی گندی گالیاں اور توہین برداشت کرنا پڑتی ہے۔پنجاب میں ماتحت عدالتوں کے ججوں بشمول خواتین کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے مایوس اس خاتون جج نے یہ تک کہا ہے کہ اگر اسلام

میں خودکشی حرام نہ ہوتی تو وہ خود کو سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے خودکشی کر لیتیں کیونکہ جج کی حیثیت سے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو روزانہ کی بنیاد پر گالیوں، توہین اور ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ان کے سینئرز نے ضلعی عدلیہ کے ججوں کو اس توہین سے بچانے کیلئے کچھ نہیں کیا۔ روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق ڈاکٹر ساجدہ احمد وہی با ہمت خاتون ہیں جنہوں نے عدلیہ تحریک میں آزاد عدلیہ کے حق میں کھل کر ساتھ دیا تھا جس کی وجہ سے انہیں اس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے غصے کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہیں بھکر ٹرانسفر کر دیا گیا تھا۔ فی الوقتوہ فتح جنگ اٹک میں ایڈیشنل سیشن اینڈ ڈسٹرکٹ جج ہیں۔اگر مجھے عدالت میں خاتون جج کی حیثیت سے نام نہاد وکلا سے توہین اور گندی گالیاں برداشت کرنا ہیں تو میرے لیے بہتر تھا کہ میں اپنی زندگی کے پچیس سال اعلی تعلیم کے حصول میں لگانے کی بجائے عام پاکستانیلڑکیوں کی طرح بیس سال کی دہائی میں شادی کر لیتی اور اپنے والدین کا قیمتی وقت اور پیسہ پندرہ سال تک اسلام آباد میں اعلی تعلیم کے حصول پر برباد نہ کرتی۔اچھا ہوتا کہ میں چوپایے کو چرانے کا کام کرتی، اپلے تھوپتی، اپنی کاشتکار فیملی کی مدد کرتی اور اسلام آبادکی روشنیوں کی بجائے پریشانیوں اور مصائب سے پاک زندگی گزارتی۔ انہوں نے کہا، اس عظیم پیشے کو غیر پیشہ ور افراد اور کالی بھیڑوں نے ہائی جیک کر لیا ہے۔وکلا کے عدالتوں اور پریزائڈنگ افسر کی موجودگی میں عام عوام، پولیس والوں پر زبانی و جسمانی حملے معمولبن چکے ہیں، یہ سب کچھ آپ کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، بدقسمتی ہے کہ ہم وکلا تحریک کے ثمرات کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے، قانون کی بالادستی کے عظیم مقصد کے حصول میں ناکام رہے اور ہمارا تشخص اس وقت دنیا نے خراب ہوتےدیکھا جب لاہور بار ایسوسی ایشن کے وکلا نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی (پی آئی سی) پر اس وقت حملہ کیا جب وہاں دل کے مریضوں کی جان بچائی جا رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ اگر ضلعی عدلیہ کی شکایات کا ازالہ نہ کیا گیا تو ججوں کو سیکریٹری جنرلاقوام متحدہ، یورپی کمیشن برائے ہیومن رائٹس، ایمنسٹی انٹرنیشنل ہیومن رائٹس واچ کمیشن، انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار مین اینڈ ویمن ججز، انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن آف لائرز میں درخواست دائر کرنا ہوگی جس میں پاکستان میں شرپسند وکلا کی کرتوتوں اور ججوںکیخلاف ان کی بدتمیزیوں کو نمایاں کیا جائے گا جو روزانہ کی بنیاد پر یہاں ہو رہا ہے بالخصوص پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ضلعی عدالتوں کا اصول ہے عزت نہیں تو کام نہیں انہوں نے کہا کہ جج صاحبان سب کو انصاف فراہم کرتے ہیں لیکن انصاف فراہم کرنےوالوں کو کون انصاف دے گا۔انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ضلعی بارز میں موجود گندے اور گھنائونے عناصر اور غیر پیشہ ور وکلا کیخلاف تعزیراتِ پاکستان کے سیکشن 228 کے تحت اور توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔انہوں نے اپنے اسی سوالکا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ضلعی عدلیہ کے ججز جانتے ہیں کہ ان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس کی بجائے ان کے سینئر عہدیدار ان کی سرزنش کریں گے کہ آپ دانشمندی کے ساتھ مسائل کیوں نہیں حل کرتے یا پھر آپ کو اپنی عدالت سنبھالنا نہیں آتی؟ وغیرہ۔سوال یہ ہے کہ ایسے غیر پیشہ ور وکلا کیخلاف ریفرنسز اور شکایات پنجاب بار کونسل اور پاکستان بار کونسلز کو کیوں نہیں بھیجی جاتیں کہ ان کا لائسنس پریزائڈنگ افسر کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر بدتمیزی اور بدسلوکی کا جائزہ لیتے ہوئے عارضی یا مستقل طور پر معطل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا، جناب، یہ جرم عوام کیخلاف ہے کہ عدالت میں کسی جج کو گالی دی جائے، اسے دھمکایا جائے یا اسے عدالتوں میں مارا پیٹا جائے، تو آخر ایسے گھمنڈی وکلا کیخلاف پٹیشن صوبائی اور وفاقی محتسب میں کیوں نہ بھیجی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ مقامِ کار پر ہراسگی کاکیس ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پیشہ ور وکلا ایسے غیر پیشہ ور وکلا کے دبائو میں ہیں تو آخر سالانہ انتخابات میں وہ انہیں ووٹ دیتے ہی کیوں ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ برسوں کے دوران پنجاب میں تقریباً ایک درجن سے زائد نوجوان، پرجوش ضلعی عدالتوں کے ججصاحبان کو ہلاک کیا جا چکا ہے لیکن کوئی بھی ان کی ہلاکت کی وجہ پر دھیان نہیں دیتا۔نوجوان سینئر سول پاک پتن جج مسٹر بدیع الزماں کی تازہ ترین ہلاکت کا واقعہ بھی سب کے سامنے ہے، اس واقعے کی وضاحت سامنے آنا چاہئے کہ وہ اچانک برین ہیمریج کی وجہ سے کیوں انتقالکر گئے؟ اگر ہمیں اسی طرح وکلا کی ڈانٹ ڈپٹ، گالیوں اور ذہنی و جسمانی ٹارچر کا سامنا کرنا ہے اور آپ ہمیں، ہمارے اور ہمارے خاندان کے وقار اور توقیر کو بچا نہیں سکتے تو ہم وہ تمام مراعات واپس کرنے کو تیار ہیں جو ہمیں دی گئی ہیں جیسا کہ گاڑی، لیپ ٹاپ، اضافیتنخواہ وغیرہ لیکن اس کی قیمت ہماری یا ہمارے خاندان کی عزت نہیں کیونکہ عدالتوں میں مرد و خواتین ججوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں مجبور ہوں، مایوس اور پریشان بھی کہ اپنی تعلیمی اسناد ایک ایک کرکے عزت مآب لاہور ہائی کورٹ کے سامنے نذر آتشکر دوں یا پھر احتجاجا سپریم کورٹ کے سامنے تاکہ 23 کروڑ عوام میں خواتین کو اتنا حوصلہ ملے کہ وہ آئیں اپنے جوش اور ایمان کے ساتھ کسی کی بہن، بیٹی یا بیوی یا ماں بن کر اپنے وقار اور تکریم کے ساتھ اس عظیم قوم کی خدمت اس پیشے میں رہتے ہوئے کر سکیں جس کی اب قدر نہیں رہی۔

موضوعات:

ایچ ٹو او

عرفان جاویداور میںروز رات ٹیلی فون پر لمبی گفتگو کرتے ہیں‘ یہ تازہ ترین کتابوں کا ذکر کرتے ہیں اور میں انہیں پچھلی رات کی فلم کے بارے میں بتاتا ہوں یا کوئی ایسا شہر‘ گائوں یا ایسی جگہ کی داستان سناتا ہوں جہاں میں گیا اور میں نے وہاں کوئی نئی چیز دیکھی‘ یہ سرکاری ملازم ہیں مگر ان ….مزید پڑھئے‎

عرفان جاویداور میںروز رات ٹیلی فون پر لمبی گفتگو کرتے ہیں‘ یہ تازہ ترین کتابوں کا ذکر کرتے ہیں اور میں انہیں پچھلی رات کی فلم کے بارے میں بتاتا ہوں یا کوئی ایسا شہر‘ گائوں یا ایسی جگہ کی داستان سناتا ہوں جہاں میں گیا اور میں نے وہاں کوئی نئی چیز دیکھی‘ یہ سرکاری ملازم ہیں مگر ان ….مزید پڑھئے‎

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں