24

آپ شہداء کی تدفین کریں ، میں لواحقین سے ملنے آجائوں گا وزیراعظم کے دورہ کوئٹہ کا دن اور ٹائم خفیہ رکھنے کا فیصلہ لیا گیا

اسلام آباد( آن لائن /این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ کو دورہ کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ کوئٹہ کا دن اور وقت خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، سانحہ مچھ پر احتجاج کرنے والی ہزارہ برادری سے اظہار یکجہتی کے لیے کسی بھی وقت اچانک کوئٹہ پہنچ سکتے ہیں تاہم سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے ان کے دورے کاباقاعدہ اعلان نہیں کیا جائے گا۔اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ بہت جلد کوئٹہ کا دورہ کروں گا ، سانحہ مچھ میں شہدا کے

لواحقین سے ملنے جاوں گا ، لواحقین سے درخواست ہے شہدا کی تدفین کریں ، دکھ کی اس گھڑی میں ہزارہ برادری کے ساتھ ہیں ، تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر اعظم نے کہا کہ شہدا کے لواحقین کے دکھ کا احساس ہے، آپ کا درد جانتاہوں اور آپ کے مطالبات کا بھی احساس ہے ، پہلے بھی چل کرآپ کے پاس آیا تھا اور دکھ میں ساتھ کھڑاتھا۔انہوں نے کہا کہ بہت جلد کوئٹہ آکرشہداکیلواحقین سیتعزیت اور فاتحہ خوانی کروں گا ، کبھی اپنیعوام کا بھروسہ نہیں توڑوں گا ، اپیل ہے اپنے پیاروں کو دفن کریں تاکہ ان کی روح کو سکون ملے۔ وزیر اعظم نے لکھا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں، کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا ہمسایہ فرقہ ورانہ دہشتگردی کو ہواد ے رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مچھ واقعہ پرہزارہ برادری کے تمام مطالبات مان لیے ہیں ،وزیراعظم کی آمد سے تدفین کو مشروط کرنا مناسب نہیں، آپ تدفین کردیں میں ضرور پہنچوں گا ، کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرتے ورنہ ہر کوئی بلیک میل کریگا، خاص طور پر ڈاکوں کا ایک ٹولہ ڈھائی سال سے کرپشن کیسز معاف کرنے کے لیے بلیک میل کررہا ہے،بھارت پاکستان میںفرقہ وارانہ انتشار پھیلانا چاہتا ہے، کراچی میں علما کا قتل اور مچھ واقعہ بھی اسی سازش کا حصہ ہے، خفیہ ایجنسیوں نے چار بڑے واقعات کو رونما ہونے سے روکا، کابینہ میں بتایا تھا علما کو قتل کرکے انتشار پھیلایا جائیگا، بڑی مشکل سے ہم نے آگ بجھائی۔اسپیشل اکنامک زونز اتھارٹی کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاید سب سے زیادہ ظلم ہزارہ برادری کے لوگوں پر ہوا،خاص طور پر گزشتہ 20 برسوں میں 11 ستمبر 2001 کے بعد ان کے اوپر دہشت گردی، ظلم اور قتل کیا گیا وہ کسی اور برادری پر نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ جب بڑے بڑے سانحات ہوئے تو میں وہاں گیا اور میں نے ان کا خوف دیکھا، جب یہ مچھ کا واقعہ ہوا جہاں 11 ہزارہ برادری کے مزدوروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ اس سازش کا حصہ ہے جس کا میں نے گزشتہ مارچ میں کابینہ کو بتایا تھا اور عوامی بیانات دئیے تھے کہ بھارت پوری طرح پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہےاور ایک جگہ ہے فرقہ ورانہ فسادات، جہاں بھارت کا منصوبہ ہے کہ شیعہ، سنی علما کو قتل کرنا۔انہوں نے کہا کہ میں ملک کی خفیہ ایجنسی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے 4 بڑے دہشت گردی کے واقعات ہمارے اداروں کی وجہ سے بچ گئے تاہم اس کے باوجود کراچی میں ایک ہائی پروفائل سنی عالم کا قتل کیا گیا، جس پر بڑی مشکل سے ہم نے آگ بجھائی جوکہ فرقہ ورانہ تقسیم ہونے والی تھی۔انہوں نے کہا کہ مچھ میں جو ہوا ہے، ہمیں پہلے سے اندازہ تو تھا، اس واقعہ کے بعد میں نے سب سے پہلے وزارت داخلہ کو بھیجا، جنہوں نے بات کی اور اس کے بعد دو وفاقی وزرا کو وہاں بھیجا یہ بتانے کیلئے کہ یہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوںنے کہاکہ ان لواحقین کے گھروں میں کمانے والوں کو مار دیا گیا، میں نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ہم ان کا پوری طرح خیال رکھیں گے، انہوں نے ہم سے جو بھی مطالبات کیے ہم نے تمام مان لیے تاہم ان کا یہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم آئیں گے تو ہم لاشوں کو دفنائیں گے،تاہم میں نے انہیں پیغام پہنچایا ہے کہ جب آپ کے تمام مطالبات مان لیے ہیں تو یہ مطالبہ کرنا کہ جب تک وزیراعظم آئیں گے نہیں ہم تدفین نہیں کریں گے مناسب نہیں۔عمران خان نے کہا کہ کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرتے ورنہ ہر کوئی بلیک میل کرے گا، سب سے پہلے ڈاکوؤں کا ٹولہ کہے گا کہ ہمارے سارے کرپشن کے کیسز معاف کرو نہیں تو ہم حکومت گرادیں گے،یہ بھی ڈھائی سال سے بلیک میلنگ چل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے کہا ہے کہ جیسے ہی تدفین کریں گے میں لواحقین سے ملوں گا، میں پھر کہہ رہا کہ اگر آپ آج تدفین کرتے ہیں تو میں آج کوئٹہ جاتا ہوں اور لواحقین سے ملتا ہوں، لہٰذا یہ واضح ہونا چاہئے کہ آپ کے سارے مطالبات مان لیے ہیں لیکن یہ شرط لگانا کہ وزیراعظم آئیں گے تو تدفین ہوگی مناسب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں آئی ٹی میں انقلاب آرہا ہے، جو تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جبکہ کووڈ 19 کے دوران بھیترقی کرنے والی آئی ٹی کمپنیاں تھیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بہت پہلے اپنے آئی ٹی کے شعبے کو اس طرح کی مراعات دینی چاہیے تھیں، کوشش ہے کہ جو بھی پہلے رکاوٹیں تھیں انہیں دور کریں تاکہ ہمارا آئی ٹی سیکٹر نہ صرف آگے جائے بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آئی ٹی کی برآمدات اتنی ہوں کہ غیرملکی زرمبادلہ بڑھے، ہم اپنی آئی ٹی کی برآمدات سے اس ملک کی کرنسی کو محفوظ کرسکتے ہیں۔

موضوعات:

سٹیٹ کو جاگنا ہوگا

امیت سکھ خاندان میں پیدا ہوا‘ یہ لوگ ڈیرہ بابا نانک (کرتار پور) میں رہتے تھے‘ دو بھائی اور ایک بہن تھے‘ والدین کھیتی باڑی کرتے تھے‘ کرتار پور 1947ءمیں پاکستان میں آ گیا‘ پنجاب میں سکھ مسلمان فسادات شروع ہو ئے‘ امیت اس وقت آم توڑ رہا تھا‘ والدین‘ بہن اور چھوٹا بھائی گھر میں تھا‘گھر پر ….مزید پڑھئے‎

امیت سکھ خاندان میں پیدا ہوا‘ یہ لوگ ڈیرہ بابا نانک (کرتار پور) میں رہتے تھے‘ دو بھائی اور ایک بہن تھے‘ والدین کھیتی باڑی کرتے تھے‘ کرتار پور 1947ءمیں پاکستان میں آ گیا‘ پنجاب میں سکھ مسلمان فسادات شروع ہو ئے‘ امیت اس وقت آم توڑ رہا تھا‘ والدین‘ بہن اور چھوٹا بھائی گھر میں تھا‘گھر پر ….مزید پڑھئے‎

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں