12

پاکستانی سائنس ایک جرمن مددگار اسکالر سے محروم ہوگئی

پس منظر میں آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی نمایاں ہے، پروفیسر فولٹر جرمنی میں اس کے ایک ماڈل کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں (فوٹو: آئی سی سی بی ایس)

پس منظر میں آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی نمایاں ہے، پروفیسر فولٹر جرمنی میں اس کے ایک ماڈل کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں (فوٹو: آئی سی سی بی ایس)

 کراچی: جرمنی کے معروف سائنس دان اور ٹیوبن جِنگ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ولف گینگ فولٹر کی موت سے پاکستان میں سائنس بین الاقوامی سطح پر ایک ہمدر د ا ور مددگار اسکالر سے محروم ہوگئی۔

اس حوالے سے جامعہ کراچی آئی سی سی بی میں پیر کو جرمن سائنسدان کی پاکستان کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ پروفیسر ولف گینگ فولٹر پاکستان قوم کے لیے بے پناہ محبت اورجذبہ احترام رکھتے تھے، پاکستان کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

مقررین میں وزیر اعظم پاکستان کی قائم کردہ ٹاسک فورس برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے چیئرمین  اور آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سرپرستِ اعلیٰ پروفیسر عطا الرحمن، بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوآرڈی نیٹر جنرل پروفیسر محمد اقبال چوہدری، پروفیسر عبدالملک، پروفیسر خالد ایم خان، پروفیسر عابد علی اور ٹیوبن جِنگ یونیورسٹی جرمنی کی ڈاکٹر سمبلہ فاروق شامل تھے۔

پروفیسر عطا الرحمن نے جرمن سائنسدان کی موت کو پاکستانی سائنس کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں سائنس کی مد میں 23 لاکھ جرمن ڈی ایم کی امداد پروفیسر ولف گینگ فولٹر کی بدولت پاکستان آئی، اگر پروفیسر ولف گینگ فولٹر کا تعاون نہ ہوتا تو آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی تحقیق میں یہ مقام حاصل نہ کرپاتا اور ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر بھی ممکن نہ ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ پروفیسر ولف گینگ فولٹر پاکستان اور جرمن دوستی اور سائنسی تعاون کے سفیر تھے، پاکستان میں سائنس کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

پروفیسر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ پروفیسر ولف گینگ فولٹر دراصل بین الاقوامی مرکز کے بانیان میں سے ایک ہیں، ان کی خدمات کے اعتراف میں بین الاقوامی مرکز میں ایک جدید تحقیقی ادارے کو بھی پروفیسر ولف گینگ فولٹر کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 40 سے زیادہ اسکالرز کو جرمنی میں موجود ان کے تحقیقی ادارے میں تربیت دلائی گئی، جرمن سائنسدان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ہلالِ پاکستان اور ستارہ پاکستان جیسے قومی اعزازات بھی عطا کیے تھے۔

پروفیسر عبدالملک نے کہا کہ پروفیسر ولف گینگ فولٹر بڑے فاضل اُستاد تھے انہوں نے بذاتِ خود درجنوں پاکستانیوں کو تحقیقی تربیت دی ہے۔

واضح رہے کہ پروفیسر ولف گینگ فولٹر 85 برس کی عمر میں 12 جنوری کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے تھے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں