18

اضاخیل ڈرائی پورٹ افتتاح کے 14 ماہ گزر جانے کے باوجود فعال نہ ہوسکا

وزیراعظم نے جنوری 2020 میں اضاخیل ڈرائی پورٹ کا افتتاح کیا تھا فوٹو: فائل

وزیراعظم نے جنوری 2020 میں اضاخیل ڈرائی پورٹ کا افتتاح کیا تھا فوٹو: فائل

 کراچی: وزیراعظم کی جانب سے جنوری 2020 میں افتتاح کے باوجود اضاخیل ڈرائی پورٹ ایک سال 2 ماہ گزرجانے کے باوجود فعال نہ ہوسکا۔

وزیراعظم نے اضاخیل ریلوے ڈرائی پورٹ کے افتتاح کے موقع پر ون ونڈو آپریشن سمیت ٹریڈ سیکٹر کے لیے دیگر سہولیات کا اعلان کیا تھا جبکہ پشاور سے برآمدی کنسائمنٹس کی کراچی کے لیے محفوظ وتیز رفتار ترسیل کے لیے کارگو ٹرین بھی چلانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اضاخیل ڈرائی پورٹ ایک سال 2 ماہ گزر جانے کے باوجود فعال نہ ہوسکا۔

اس ضمن میں فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے صدر ضیاء الحق سرحدی نے ایکسپریس کو بتایاکہ گزشتہ 15سال سے ریلوے پشاورکینٹ ڈرائی پورٹ سے ایکسپورٹ کارگو ٹرین بند ہے حالانکہ خیبر پختونخوا معدنیات کے ذخائر ودیگراشیاء سے مالا مال ہے جس میں جیمز، ماربل، فرنیچر، ہینڈی کرافٹ، قالین، شہد کے علاوہ ماچس کی سب سے بڑی انڈسٹری بھی قائم ہے جن کی محفوظ ترسیل کارگو ٹرین ریلوے کے ذریعے ممکن ہو تو بیشتر اشیاء کا ناصرف برآمدی حجم بڑھ سکتا ہے بلکہ صوبے کے 250 سے زائد بے روزگار کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس کی کاروباری سرگرمیاں بھی بحال ہوسکتی ہیں، اس کے علاوہ صوبے کے تاجر اپنے درآمدی کنسائمنٹس بھی کراچی پورٹ سےبذریعہ کارگو ٹرین اضاخیل ڈرائی پورٹ کے لئے منگواسکتے ہیں۔

ضیاء الحق سرحدی نے کہاکہ اضاخیل ریلوے ڈرائی پورٹ کے آپریشنل ہونے سے پاکستان ریلویز کے ریونیو میں بھی فریٹ کی مد میں کروڑوں روپے کی آمدنی بڑھ سکتی ہے۔ 1986میں عارضی بنیادوں سے پشاور کینٹ ریلوے مال گودام پر آپریٹ ہونے والے ڈرائی پورٹ میں سہولیات کے فقدان کی وجہ سے خیبرپختونخوا کی تاجر برادری نےاضاخیل میں جدید سہولیات سے آراستہ ڈرائی پورٹ کے قیام کامطالبہ کیا تھا جس پر وزیر اعظم نے گزشتہ سال اس کا افتتاح کیا تھا جو تاحال آپریشنل نہ ہوسکاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت اضاخیل ڈارئی پورٹ کو آپریشنل کرنے کے لیے فوری اقدامات بروئے کار لائیں تاکہ صوبہ ماضی کی طرح گولڈن گیٹ وے کی حیثیت اختیار کرےاور طورخم سرحد ہفتے کے 7دن 24 گھنٹے کھلے رہنے کے مطلوبہ ثمرات بھی حاصل ہوسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں