22

کیمیائی آلودگی جسم کو 8 طرح سے نقصان پہنچاتی ہے

ماہرین نے بتایا ہے کہ ہرطرح کی آلودگیاں 8 طریقوں سے اثرانداز ہوتی ہیں۔ فوٹو: فائل

ماہرین نے بتایا ہے کہ ہرطرح کی آلودگیاں 8 طریقوں سے اثرانداز ہوتی ہیں۔ فوٹو: فائل

 واشنگٹن: ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ کیمیائی اور فضائی آلودگی ہمارے لیے کئی طرح سے مضر ثابت ہوتی ہیں۔ اب تین جامعات نے مشترکہ طور پر ان آٹھ وجوہ کا پتا لگایا ہے جن کی بدولت کیمیائی ماحولیاتی آلودگیاں حیاتیاتی راہ بناکرجسم کو بیمار کرتی ہیں۔

اس طرح انہوں نے پہلی بار مفصل انداز میں بتایا ہے کہ فضا، پانی، اور زمین پر موجود کیمیائی آلودگیاں کتنی خطرناک ہوسکتی ہیں اور ان کا طریقہ واردات کس طرح کا ہوتا ہے۔ یہ تحقیق کولمبیا یونیورسٹی، لَڈوِگ میکسی میلیان یونیورسٹی اور ہاسیلٹ یونیورسٹی نے کی ہے۔ انہوں نے اپنی تحقیق کو جریدے’ سیل‘ میں شائع کیا ہے۔

یہ کام ڈاکٹر اینڈریا بیکاریلی کی سربراہی میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ ہم نے ہوا، مٹی، پانی اور خوراک میں موجود آلودہ اجزا کا پیچیدہ حملے کو سمجھا ہے جو بہت سے انتہائی خطرناک امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔

1: آلودہ اجزا آکسیڈیٹوو اسٹریس اور سوزش (انفلیمیشن) پیدا کرکے خلوی موت اور اعضا کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

2: اسی طرح آلودگی کے کئی کیمیکل ڈی این اے کو متاثر کرتے ہیں۔ جب ڈی این اے کی سطح پر بگاڑ بڑھ جاتا ہے اور سب سے پہلے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

3: جین سے ہٹ کر یعنی غیرجینیاتی ( ایپی جینیٹک) تبدیلیوں سے پروٹینی تالیف متاثر ہوسکتی ہے اور یہ عمل ابتدائی عمر میں بھی دیکھا گیا ہے۔

4: مائٹو کونڈریائی سطح پر نقصان ہونے سے خلیات کو توانائی نہیں ملتی اور انسانی نشوونما رک سکتی ہے یا پھر دیرینہ امراض گھیر سکتے ہیں۔

5: ماحولیاتی گند میں موجود بعض کیمیکل اینڈوکرائن غدے کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہ غدہ کئی طرح کے ہارمون خارج کرتا ہے جو آلودگی سے متاثر ہوتی ہے اور انسان امراض میں گِھر جاتا ہے۔

6:ہمارے خلیات (سیلز) کےدرمیان رابطے اور ان کی رابطوں کی صلاحیت کمزور ہوجاتی ہے۔ اس طرح اکثر دماغی امراض جنم لیتے ہیں۔

7: بالخصوص معدے اور آنتوں میں ہزاروں اقسام کے بیکٹیریا اور خردنامئے پائے جاتے ہیں۔ آلودگی ان کا توازن خراب کرتی ہے اورہم کئی امراض کے شکار ہوسکتے ہیں۔

8: آلودگی کے انتہائی باریک خردبینی ذرات دماغ تک پہنچ جاتے ہیں اور پورے اعصابی (نروِس) نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ اس طرح سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

تاہم سائنسدانوں کا اعتراف ہے کہ ان بڑی وجوہ کے علاوہ بھی آلودگی کے دیگر اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔ ان میں جزوقتی اور طویل مدتی اثرات شامل ہیں۔

توقع ہے کہ اس تحقیق سے آلودگیوں کے مضر اثرات کم کرنے اور معالجے کو بڑھانے میں بہت معاونت ملے گی۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں