49

قانون مکمل طور پر معصوم اور اندھا ہوتا ہے چیف جسٹس کے صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران اہم ریمارکس

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون میں جو بھی درج ہے اس پر نیک نیتی سے عمل کرنا ہوتا ہے،قانون مکمل طور پر معصوم اور اندھا ہوتا ہے ،قانون پر بدنیتی سے عمل ہو تو مسائل جنم لیتے ہیں، الیکشن اتحاد کیگنجائش سیاسی جماعتوں میں ہمشہ رہتی ہے،ہمارااور آئرلینڈ کا آئین ایک جیسا ہے،آئرلینڈ میں بھی الیکشن خفیہ بیلٹ سے ہوتا ہے،آئرش سپریم کورٹ کا بھی اس معاملہ پر فیصلہ موجود ہے،اس حوالے سے حکومتی موقف

بھی جاننا چاہیں گے،اگر متناسب نمائندگی میں سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کا میکانزم شامل ہے تو پھر اکثریتی جماعت کا کیا ہوگا؟ایسے میں تو پھر ایوان بالا میں اکثریت والی جماعت اقلیت میں بدل سکتی ہے۔معاملہ کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت چیف جسٹس کی ابزرویشنز پر اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ آئرلینڈ کی پارلیمنٹ کے دو ہائوس ہیں،آئرلینڈ میان لوئر ہاوس کے انتخابات پاپولر ووٹ سے ہوتے ہیں،آئرلینڈ میں پاپولر ووٹ خفیہ ہوتے ہیں،پی پی میں ایک پی بڑھا کر آج فاروق نائیک آ گئے ہیں کل تو پی ایس ایف والے بھی آ جائیں گے،پچھلے ریفرنس میں بھی کسی وکلا تنظیم کو نہیں سنا گیا اس سیاسی نوعیت کے کیس میں انکا کیا رول ہے،انکو اگرآنا ہے تو اسلام آباد ہائیکورٹ پر حملے کے لیے درخواست لیکر آئیں،اس کیس میں سیاسی جماعتیں تو سٹیک ہولڈرز ہیں وکلا تنظیموں کا کیا لینا دینا، اگر کل تک اس کیس کا فیصلہ نا ہوا تو یہ علمی مباحثہ بن کر رہ جائے گا۔میاں رضا ربانی نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے موقف اپنایا کہرولز صدارتی انتخابات کے لئے کمشنر کو ہدایات جاری کرنے کا اختیار دیتے ہیں،شیڈول 2 کے باوجود صدارتی انتخابات کے لئے رولز بنائیں گے،یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ سینٹ کے انتخابات بھی آئین کے تحت ہوتے ہیں،الیکشن ایکٹ 2017 بھی آئین کی کمانڈ پر بنایا گیا ہے،الیکشنایکٹ نے بھی آئین کہ کمانڈ سے جنم لیا ہے،امریکی کونسل آف اسٹیٹ میں ہر ریاست کی نشستوں کی تعداد ایک جیسی نہیں ہے،امریکی کونسل آف اسٹیٹ میں آبادی کے لحاظ سے نشستیں مختص کی گئی ہیںں ،آرٹیکل 59 میں کہیں نہیں لکھا سینٹ کا الیکشن قانون کے مطابق ہوگا،سینٹ کھبیتحلیل نہیں ہوتی ارکان ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں،متناسب نمائندگی کا مطلب یہ نہیں کہ اسمبلی کی اکثریت سینٹ میں بھی ملے،متناسب نمائندگی نظام کے تحت سیٹیوں کی تعداد میں کمی بیشی ہو سکتی ہے،جہاں ووٹوں کی خریدو فروخت ہو گی قانون اپنا راستہ بنائے گا، شواہد کے بغیر سیٹوں کی تعدادمیں فرق کووووٹ فروخت کرنا نہیں کہہ سکتے،بیلٹ پیپرز کی سیکریسی متاثر نہ ہو تو الیکشن کمیشن ووٹوں کا جائزہ لے سکتا ہے۔رشوت لینا یا لینے پر آمادگی ظاہر کرنا ووٹ دینے کے پہلے کے مراحل ہیں،ووٹ کے لیے پیسے لینے والا ووٹنگ سے پہلے کرپشن کر چکا ہوتا ہے،کرپشنووٹنگ سے پہلے ہوتی ہے تو اسکے لئے ووٹ دیکھنے کی ضرورت نہیں۔رضا ربانی نے مزید کہا کہ رشوت کسی کوووٹ نہ ڈالنے کیلئے بھی دی جاسکتی ہے،جوپیسے ہی اس بات کے لے کہ ووٹ نہیں ڈالوں گاتوکیسے پکڑیں گے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے اس موقع پر ریمارکسدئیے کہ رولز صدارتی الیکشن کا اختیار دیتے ہیں،الیکشن ایکٹ کے لیے بنے رولز کی حیثیت آئینی نہیں ہے،تمام قوانین کا جنم آئین سے ہوتا ہے،یہ حقیقت ہے کہ صدارتی الیکشن کے لئے کوئی قانون نہیں بنایا گیا،چیئرمین سینٹ سپیکر اسمبلی کاالیکشن انکے عہدے کا انتخاب ہوتا ہے،سینٹ الیکشن کا مکمل طریقہ کار آئین میں نہیں قانون میں ہے،ایسا طریقہ بھی بتا دیں ووٹ دیکھا بھی جائے سکریریسی متاثر نہ ہو،اگر معاہدے ہو کہ آدھی رقم ووٹ ڈالنے کے بعد ملے گی تو پھر کیا ہوگا،ووٹ ڈالنا ثابت ہوگا تو ہی معلوم ہوگا رقم الیکشن کے لئے دی گئی،سیاسی حقائق کوسامنے رکھ کر سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کو نمائندگی دی گئی،پارٹی کی متناسب نمائندگی کا نظام جمہوریت ہے،سیاسی پارٹیوں کے لیے ایک نظام مرتب کیا گیا ہے،نقاد یہ بھی کہتے ہیں کہ پارٹی سسٹم کی وجہ سے بنیادی حلقے میں مسائل ہوتے ہیں،رضا ربانی نے جرمی، آسٹریلیا اوردیگر ممالک کی سیاسی پارٹیوں اور انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جرمنی میں پہلا ووٹ سیاسی پارٹی کا ہوتا ہے اور دوسرا الیکٹورل ہوتا ہے،مختلف کیسز میں الیکشن میں سلیکشن کا طریقہ کار اپنایا جاتا ہے،چھوٹی پارٹیوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے،مختلف ممالک میںاتحادی پارٹیاں مل کر حکومتیں تشکیل دیتی ہیں،آسٹریلیا میں سیاسی جماعتوں میں سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کی اہمیت ہے،آسٹریلیا میں سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کے لیے الگ نظام موجود ہے،انہوں میں پارٹیوں میں سے نمائندے منتخب کرنے ہوتے ہیں تاہم پارٹی سے باہر بھی ووٹ دے سکتے ہیں،الیکشن کے مختلف نظام ہیں لیکن سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کا بھی ایک ذیلی نظام ہے،اس میں پارٹی کی نمائندگی بھی ہو سکتی ہے اور دوسرا سیاسی اتحاد بھی نمایاں ہو سکتا ہے،متناسب نمائندگی میں سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کی گنجائش رکھی گئی ہے،الیکشن کمیشن ضرور معاملہدیکھ سکتا ہے لیکن خفیہ ووٹ کا اختیار ختم نہیں کر سکتا،الیکشن کمیشن ووٹ ڈالنے سے پہلے کے مراحل کو دیکھ سکتا ہے اس کے بعد کے نہیں،ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے اگر پیسے لیے گئے اور رضا مندی کا وعدہ کیا گیا تو پھر کاروائی ہو سکتی ہے،بیلٹ پیپر بذات خود ایک بہتبڑی شہادت ہے،اس کے بغیر کرپٹ پریکٹس کا تعین نہیں ہوسکتا،ٹربیونل بیلٹ پیپر کا جائزہ لے سکتا ہے لیکن سینیٹ الیکشن یکسر مختلف ہے،اگر میں نے معاہدہ کر بھی لیا تو بھی میں پکڑا جا سکتا ہوں، جسٹس اعجازالاحسن نے اس موقع پر سوال اٹھایا کہ اگر ووٹ کی خریدوفروختکی وڈیو سامنے آئی ہیں تو اس پر کیا ایکشن ہوا ہے؟ جس پررضا ربانی نے موقف اپنایا کہ آپ جانتے ہیں وہ وڈیو کن کی ہیں میں سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہوں اس پر بات نہیں کرونگا،ووٹنگ کے لیے پیسہ لینا، کوئی معاہدہ کرنا کرپٹ پریکٹس ہیں۔ پیسہ لینااورووٹ دینادونوں کوثابتکرناہوگا۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ تو پھر ووٹ سے جڑا ہوا ہے،عدالت کی کوشش ہے کہ جلد اس کیس کو نمٹایا لیکن ہمیں آئین کی تشریح کرنی ہے،رضا ربانی نے بتایا کہ کہ ووٹ سے نہیں بلکہ ووٹنگ سے جڑا ہے، الزام کنندہ کو الزام ثابت کرنے کے لیے شہادت دینا ہوگی،جب تکبیلٹ پیپر نہیں دیکھا جاتا تب تک کوئی ٹھوس شہادت نہیں، فرض کریں اگر ووٹ نہ دینے کا معاہدہ ہوا تو پھر بیلٹ پیپر کی تو کوئی اہمیت نا رہی،میں یہی کہہ رہا ہوں کہ بیلٹ پیپر کرپٹ پریکٹس کا فیصلہ نہیں کرسکتا،بنیادی سوال سینیٹ الیکشن کی سیکریسی کا ہے۔ وکیل فاروق ایچ نائیک نےایک موقع پر عدالت کو بتایا کہ میں پیپلز پارٹی پالیمنٹیرین کی طرف سے دلائل دونگا۔عدالت عظمیٰ نے میاں رضا ربانی کو آئندہ سماعت پر اپنے دلائل مکمل کرنے جبکہ فاروق ایچ نائیک کو اپنے تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملہ کی سماعت ایک دن کے لئے ملتوی کر دی ہے۔

موضوعات:

خوشبو جیسا انسان

یہ چار سال پرانی بات ہے مجھے فون آیا اور دوسری طرف وہی گھمبیر آواز تھی ”کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو“ میں نے قہقہہ لگایا اور عرض کیا‘ آشنا خواتین کے ہوتے ہیں اور یہ عموماً چار پانچ بچے چھوڑ کر ان کے ساتھ فرار ہو جاتی ہیں“ دوسری ….مزید پڑھئے‎

یہ چار سال پرانی بات ہے مجھے فون آیا اور دوسری طرف وہی گھمبیر آواز تھی ”کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو“ میں نے قہقہہ لگایا اور عرض کیا‘ آشنا خواتین کے ہوتے ہیں اور یہ عموماً چار پانچ بچے چھوڑ کر ان کے ساتھ فرار ہو جاتی ہیں“ دوسری ….مزید پڑھئے‎

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں