27

جب لوگوں کو 2 وقت کی روٹی ملے گی تواللہ کی برکت آئیگی وزیر اعظم نے کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کا افتتاح کردیا

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ہسپتالوں اور موبائل لنگر خانوں کا جال بچھائیں گے ،کوئی بھی مزدور،محنت کش اور غریب بھوکا نہیں سوئے گا،ہرخاندان کی دس لاکھ تک ہیلتھ انشورنس کی جائے گی۔فیصل آباد ، پشاور اور لاہو ر میں ”کوئی بھوکا نہ سوئے” پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظمعمران خان نے کہا کہ سینیٹر ثانیہ نشتر کو مبارکباد دیتا ہوں ،یہ آئیڈیا میں نے آپ کو دیا تھا جس کو آپ نے حقیقت کا روپ دیا ،یہ فوڈ ٹرکس روٹس پر چلیں گے جو زیادہ پسماندہ علاقے ہیں اور

جہاں زیادہ غریب اور مستحق افراد ہیں،پشاور ،لاہور اور فیصل آباد میں اس پروگرام کی شروعات ہے ، ہم پورے پاکستان میں فوڈٹرکس کاجال بچھا دیں گیاور یہ تمام غریب علاقوں کو جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ اس پروگرام کے پیچھے فلسفہ یہ ہے کہ میں چاہتا تھا کہ ہمارے وزیروں کے اندر یہ احساس ہو کہ ان پر بڑی ذمہ داری غریب طبقے کی خدمت کرنا ہے۔کمزور اور غریب طبقے کی ذمہ داری لینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر وجود میں آیا مگر یہ ریاست مدینہ کے راستے سے آج تک نہیں چل سکا تاہم موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ غریب طبقے کو اوپر اٹھائے ،بھوکوں کوکھانا کھلائے ،جب ریاست غریبوں کو کھانا پہنچانے کی ذمہ داری لے گی تو اللہ کی برکتیں پاکستان پر نازل ہوں گی ،جب اللہ کی برکتیں نازل ہوتی ہیںتو پاکستان چند سالوں میں اپنے پائوں پر کھڑا ہوجائے گا۔سیلانی فائونڈیشن کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،آپ بہت اچھا کام کررہے ہیں ، آپ کا ادارہ لوگوں کوکھانا فراہم کررہاہے اور ہمارے ساتھ ملکر غریبوں سے ہمدردی دکھا رہے ہیں اس پر آپ کا مشکور ہوں۔انہوں نے کہاکہپاکستانی بہت خوش قسمت لوگ ہیں جوخیرات وزکوآ کی مد میں غریبوں کو بہت پیسہ دیتے ہیں اور پاکستان دنیا کے ممالک میں سب سے زیادہ خیرات دینے والا ملک ہے جس کی مثال شوکت خانم کی دیتا ہوں جب میں نے یہ بنانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے مجھے اتنا چندہ دیا کہ میں سوچبھی نہیں سکتا تھا کہ شوکت خانم اتنا جلد بن جائیگا۔یہ سب پاکستانیوں کی وجہ سے ممکن ہوا۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کا جال بچھا دیں گے ،پہلے لوگ سڑکوں پر سوتے تھے اوراب ان کیلئے پناہ گاہیں بنا دی ہیں ،مزدوروں کی رہائش اور کھانے کیمد میں جو پیسہ بچتا ہے وہ اپنے گھروں کو بھیج سکتے ہیں جن سے ان کا گھر کا کیچن چلے گا۔ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہیلتھ انشورنس دے رہے ہیں ،ہر شہری کو ہیلتھ انشورنس دیں گے وہ دس لاکھ روپے تک کسی بھی ہسپتال میں علاج کرا سکے گا اور ملک میں ہسپتالوں کا جالبچھائیں گے ،دیہاتوں میں بھی ہسپتال بنائیں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ثانیہ نشتر نے کہا کہ وزیراعظم کا عزم ہے کہ پیارے ملک میں کوئی بھوکا نہ سوئے اور ہم اس پالیسی پر عملدرآمد کرنے کیلئے ہم پوری طرح کوشاں ہیں ،وزیراعظم کی نگرانی میں پورے ملک میںپناہ گاہیں اور لنگر خانے کھولے جارہیں ہیں جن میں کوئی بھی جاسکتا ہے اور وہاں پر مفت کھانا بھی کھاسکتا ہے۔اب تیسرے نمبر پر ہم نے موبائل لنگر کا انتظام شروع کیا ہے جس کا مقصد ان غریب اور مزدوروں کو کھانا فراہم کرنا ہے جو لنگر گاہوں تک نہیں پہنچ سکتے اور یہپروگرام تقریبا ایک ماہ قبل ہم نے اسلام آباد سے شروع کیا تھا ،فوڈ ٹرک متعارف کرائے تھے اور اس پائلٹ پراجیکٹ کی بنیاد پر ہم نے جو کچھ سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ یہ فوڈ ٹرک بڑی کامیابی کیساتھ چل رہے ہیں اور اب تین شہروں میں رمضان المبارک سے پہلے ہم نے شروع کرناہےجن میں لاہور ، پشاور اور فیصل آباد شامل ہیں ، یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت یہ پروگرام چلایا جارہاہے جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا بھی تعاون شامل ہے جو ٹرکس فراہم کررہی ہیں جبکہ پرائیویٹ سیکٹر فری کھانا فراہم کرے گا۔وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہکی معاونت سے ہم اس پروگرام کو جلد آگے بڑھائیں گے ،کل ہم ایک اکائونٹ جاری کریں گے جس میں کوئی بھی پاکستانی شہری کووڈ فنڈ کیلئے ڈونیشن دینا چاہتاہے تو اس اکائونٹ میں وہ دے سکتا ہے۔کووڈ فنڈ میں شفافیت کے حوالے سے تمام اقدامات کیے جارہے ہیں۔

موضوعات:

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ….مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ….مزید پڑھئے‎

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں