22

سالانہ20 لاکھ افراد کوروگازدینے کی ضرورت ہے، شوکت ترین

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکنالوجی کی برآمدات کاہدف دوارب ڈالرتک مقررکیا جائے گا۔(فوٹو:فائل)

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکنالوجی کی برآمدات کاہدف دوارب ڈالرتک مقررکیا جائے گا۔(فوٹو:فائل)

 اسلام آباد: وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہاہے کہ پاکستان میں ہرسال روزگارکے 20 لاکھ مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے، حکومت آئندہ مالی سال میں بنیادی ڈھانچہ کے بڑے منصوبوں پر6 ارب ڈالرخرچ کرنا چاہتی ہے، محصولات میں اضافہ ہمارا ہدف ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزغیر ملکی میڈیا کوانٹرویودیتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روزگار اوربڑھوتری میں اضافے کے لیے حکومت آئندہ مالی سال میں بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں پر6 ارب ڈالرخرچ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اللہ نے چاہا اور اگرکورونا کی وجہ سے پیداہونے والے حالات بہترہوئے توآئندہ مالی سال میں 4 اعشاریہ 5سے لے کر5 فیصد اور  سال2022 تا 2023 میں 6 فیصد بڑھوتری کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ ملک کے سائزاورتقریباً 110 ملین نوجوانوں کی موجودگی کے تناظرمیں معاشی بڑھوتری میں اضافے اور سالانہ 20 لاکھ روزگارکے مواقع کی ضرورت ہے، اگرہم بڑھوتری کی طرف نہ گئے توبڑے بحران کاسامناکرنا پڑسکتاہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے ہمیں زیادہ محصولات جمع کرنا ہوگی۔ جاری مالی سال میں محصولات کاہدف 4700 ارب روپے رکھا گیا، آنیوالے مالی سال میں محصولات کاہدف 6ہزارارب روپے رکھا جائے گا،اگر ہم نے ریونیومیں اضافہ نہ کیاتوپھرمعیشت کوترقی دینے کے لیے سہولیات کوبھول جانا ہوگا۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات کےبارے میں وزیرخزانہ نے کہاکہ ہمارا موقف ہے کہ محصولات میں اضافہ اور توانائی کے قرضوں میں کمی سمیت ہم اہداف کومتبادل طریقوں سے حاصل کرسکتے ہیں، ہمارامقصد یہ ہے کہ یہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے آخری بیل آوٹ ہو۔

وزیرخزانہ نے بتایا کہ پاکستان ایشیائی ترقیاتی بینک اورعالمی بینک سے 20 ارب ڈالرکے وہ مختص فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کرے گاجو ابھی تک پاکستان نے حاصل نہیں کیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکنالوجی کی برآمدات کاہدف دوارب ڈالرتک مقررکیا جائے گا۔ ہماراارادہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی برآمدات کودوسالوں میں 8 ارب ڈالرکی سطح پرپہنچایاجائے۔

حکومت اس شعبہ کومعاونت فراہم کرنا چاہتی ہے، وزیرخزانہ نے کہاکہ گلوبل سکوک بانڈز جاری کئے جائیں گے،جب کہ آئندہ مالی سال میں مالیاتی خسارہ رواں مالی سال کے مقابلہ میں ایک یا ڈیڑھ فیصدکم ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں