20

ڈبلیو ایچ او نے سائنوفارم ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت دے دی

ڈبلیو ایچ او نے صرف فائزر، آسٹرا زینیکا، جانسن اینڈ جانسن اورموڈرنا کی جانب سے بننے والی ویکسین کی منظوری دے رکھی تھی۔(فوٹو:فائل)

ڈبلیو ایچ او نے صرف فائزر، آسٹرا زینیکا، جانسن اینڈ جانسن اورموڈرنا کی جانب سے بننے والی ویکسین کی منظوری دے رکھی تھی۔(فوٹو:فائل)

جینیوا: عالمی ادارہ برائے صحت نے چینی کمپنی سائنو فارم میں بننے والی کورونا ویکسین کے استعمال کی ہنگامی منظوری دے دی ہے۔ 

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس سے قبل ڈبلیو ایچ او نے صرف فائزر، آسٹرا زینیکا، جانسن اینڈ جانسن اورموڈرنا کی جانب سے بننے والی ویکسین کی منظوری دے رکھی تھی، ڈبلیو ایچ او کی جانب سے یہ پہلی ویکسین ہے جسے مغربی ممالک میں تیار نہیں کیا گیا ہے۔ یہ ویکیسن  اب تک چین، پاکستان اور دیگر ممالک کے لاکھوں افراد کو لگ چکی ہے۔  جب کہ بہت سے ممالک خصوصا افریقا، لاطینی امریکا اور ایشیا کے غریب ممالک کے محکمئہ صحت نے انفرادی طور پر اس ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری دے رکھی ہے۔

 اگرچہ بین الاقوامی طور پر جاری ہونے والے ڈیٹا کے مطابق مختلف چینی ویکیسین  کی افادیت غیر یقینی ہے لیکن عالمی ادارہ برائے صحت نے بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف بایو لوجیکل پراڈکٹس کی سائنو فارم ویکسین کی ’ حفاظت، کارکردگی اور معیار‘ کی توثیق کر تے ہوئے کہا ہے کہ اس ویکسین کے اضافے سے دنیا کے ایسے ممالک کو ویکسین تک رسائی ملے گی، جہاں عوام اور ہیلتھ ورکرز  خطرے میں ہیں۔

تاہم یہ ویکسین اٹھارہ سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد میں دوخوراکوں میں دی جائے۔ جب کہ روس کی اسپٹنک اور چینی کمپنی سینو ویک کی ویکیسن بھی ابھی جانچ کے مراحل سے گذر رہی ہے، اوران کی منظوری یا مسترد کرنے کا فیصلہ چند دنوں میں سامنے آجائے گا۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں