11

اچھلتے کودتے بجلی بناتے جائیے، کھانا پکاتے جائیے!

اس ایجاد کو دیکھتے ہوئے انسان کی جسمانی حرکت سے گرمی پیدا کرنے والے ماحول دوست چولہے بنائے جاسکتے ہیں۔ (یوٹیوب اسکرین گریب)

اس ایجاد کو دیکھتے ہوئے انسان کی جسمانی حرکت سے گرمی پیدا کرنے والے ماحول دوست چولہے بنائے جاسکتے ہیں۔ (یوٹیوب اسکرین گریب)

ٹوکیو: جاپان کے ایک یوٹیوبر نے ایسا چولہا ایجاد کرلیا ہے جسے گرم کرنے کےلیے ایک جگہ کھڑے ہو کر، دوڑنے والے انداز میں اچھل کود کی جاتی ہے اور یوں پیدا ہونے والی بجلی سے کھانا پکایا جاتا ہے۔

انسان کی جسمانی توانائی سے قابلِ استعمال بجلی بنانے کا خیال برسوں پرانا ہے جس کی سب سے پرانی مثال ’’ڈائنامو‘‘ کی صورت میں موجود ہے جو سائیکل چلاتے دوران بجلی بناتا ہے جس سے سائیکل کی ہیڈ لائٹ روشن کی جاتی ہے۔

حالیہ برسوں میں انسان کی جسمانی حرارت سے جلنے والی فلیش لائٹس اور ’’سلیپنگ بیگ بیٹری چارجر‘‘ جیسی کئی ایجادات سامنے آچکی ہیں۔

جاپانی یوٹیوبر ’’بومب تامیو‘‘ (Bomb_tamio) بھی عجیب و غریب ’’ایجادات‘‘ کے دعویدار ہیں جن کے یوٹیوب چینل پر تقریباً دو ہفتے پہلے ایسی ہی ایک انوکھی ایجاد کی مختصر سی ویڈیو پوسٹ کی گئی۔

اس ویڈیو میں انہوں نے بجلی سے گرم ہونے والا ایک چولہا دکھایا ہے جو زمین پر رکھی ہوئی تختہ نما چیز کے ساتھ، ایک تار کے ذریعے منسلک ہے۔

چولہا گرم کرنے کےلیے وہ اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے، چلنے والے انداز میں اچھلتے ہیں جس کی وجہ سے اس تختے پر دباؤ میں بار بار کمی بیشی ہوتی ہے۔

تختے کے اندر نصب آلات اسی کمی بیشی کو بجلی میں تبدیل کرتے ہیں جو ایک مخصوص نظام سے گزر کر حرارت میں تبدیل کی جاتی ہے۔ یہ حرارت چولہے کو گرم کرتی ہے اور یوں اس پر کھانا پکایا جاسکتا ہے۔

اس یوٹیوب ویڈیو میں بومب تامیو نے چولہے پر مچھلی تلنے کا عملی مظاہرہ کیا ہے جو بلاشبہ دلچسپی سے خالی نہیں۔

یہ عجیب و غریب ایجاد کبھی مارکیٹ میں تو نہیں آئے گی لیکن اسے دیکھتے ہوئے ایسے بہتر چولہے ضرور بنائے جاسکتے ہیں جو انسان کی جسمانی حرکت سے گرمی پیدا کریں اور ہمیں آلودگی کا باعث بننے والے ایندھن کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں