8

لوڈو قسمت کا کھیل ہے یا مہارت کا… اب عدالت فیصلہ کرے گی

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لوڈو سپریم نامی ایپ کے ذریعے آن لائن جوئے کو فروغ دیا جارہا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لوڈو سپریم نامی ایپ کے ذریعے آن لائن جوئے کو فروغ دیا جارہا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ممبئی: لوڈو کا شمار پسندیدہ ترین گھریلو کھیلوں میں ہوتا ہے جس میں کچھ کھلاڑی زیادہ جیتتے ہیں اور کچھ کھلاڑیوں کو زیادہ شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیتنے والے اکثر لوڈو میں اپنی ’’مہارت‘‘ کا دعوی کرتے ہیں جبکہ ہارنے والے اپنی ’’قسمت‘‘ کا رونا روتے ہیں۔

لوڈو قسمت کا کھیل ہے یا مہارت کا؟ اب یہ مقدمہ بمبئی (ممبئی) ہائی کورڈ میں دائر کیا جاچکا ہے اور سوشل میڈیا پر اس بارے میں میمز کی بھرمار ہوگئی ہے۔

خبروں کے مطابق، کیشو مولے نامی ایک بھارتی شہری نے بمبئی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں ’’لوڈو سپریم‘‘ نامی ایک گیمنگ ایپ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لوڈو ’’قسمت کا کھیل ہے اور لوڈو سپریم کے ذریعے انٹرنیٹ پر جوئے کو فروغ دیا جارہا ہے جو گھریلو کھیلوں کے تصور کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘‘

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مہاراشٹرا میں جوئے کی روک تھام کا قانون 1887 سے موجود ہے جس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اگر ’’قسمت‘‘ کا کوئی کھیل مالی فائدے کےلیے کھیلا جائے تو وہ جوئے میں شمار کیا جائے گا اور ایسا کوئی بھی کھیل غیر قانونی ہوگا۔

یہ تو نہیں معلوم کہ ممبئی کی عدالت اس بارے میں کیا فیصلہ کرے گی لیکن سوشل میڈیا پر اس بارے میں میمز کا انبار لگ گیا۔

بیشتر سوشل میڈیا صارفین نے بمبئی ہائی کورڈ میں 4 لاکھ 64 ہزار زیرِ التوا مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے اس مقدمے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

چیتن نامی ٹوئٹر صارف نے باقی مقدمات کو بے بسی کے عالم میں کچھ یوں دکھایا:

ایسے ہی ایک اور میم کے ساتھ پنکج سنگھ نامی ٹوئٹر صارف نے کامیڈین راجو سیرواستو کی تصویر کو ’’ہاں! یہ کرلو پہلے‘‘ کے ساتھ پیش کیا:

ارباز فاروقی نامی ایک بھارتی شہری نے لکھا کہ بمبئی ہائی کورٹ میں 4 لاکھ 64 ہزار یا اس سے زیادہ مقدمات زیرِ التوا ہیں اور یہ (عدالت) فیصلہ کررہی ہے کہ لوڈو مہارت والا کھیل ہے یا قسمت کا:



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں