13

یہ مچھلی بجلی کے ذریعے باتیں کرتی ہے، لیکن انسانوں کی طرح!

فیل مچھلی یا مورمائرڈز بجلی کی زبان میں باتیں کرتی ہیں اور درمیان میں انسانوں کی طرح خاموش بھی رہتی ہیں۔ فوٹو: فائل

فیل مچھلی یا مورمائرڈز بجلی کی زبان میں باتیں کرتی ہیں اور درمیان میں انسانوں کی طرح خاموش بھی رہتی ہیں۔ فوٹو: فائل

 لندن: بغیر رکے مسلسل بولے جانا ویسے بھی اچھا نہیں ہوتا اور اب ایک مچھلی میں بھی یہی آداب پائے گئے ہیں۔ یہ مچھلی گفتگو کے دوران وقفے لیتی ہے لیکن اپنا پیغام بجلی کی بدولت ہی پہنچاتی ہے۔

قدرت کے کارخانے میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ مینڈک اور پرندے بھی گفتگو کرتے ہیں اور اپنی بات چیت میں کے درمیان وقفہ یا خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ اسی طرح مورمائرڈ یا ایلیفنٹ (ہاتھی) مچھلی بجلی کے ہلکے کمزور جھماکوں سے ایک دوسرے کو اپنا پیغام پہنچاتی ہے۔

یہ مچھلیاں میٹھے پانی میں رہتی ہیں اور اس کا حیاتیاتی نام Brienomyrus brachyistius ہے۔ سائنسدانوں نے دیکھا کہ یہ بجلی کے لگاتار سگنل کی بوچھاڑ کے درمیان وقفہ لیتی ہے اور مکمل خاموش ہوجاتی ہے۔ پھر یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے لیکن جب مچھلیاں اکیلی ہوتی ہیں تو وہ بجلی کے جھماکے کم خارج کرتی ہے اور وقفہ بھی نہیں لیتیں۔

ماہرین کے مطابق جب مچھلیاں ایک دوسرے سے رابطہ کرتی ہیں تو پہلے ایک مچھلی بجلی کے جھماکے خارج کرکے خاموش ہوجاتی ہیں اور اس کے بعد دوسری اپنی بجلی بھری زبان کھولتی ہے۔ اس دوران انسانوں کی طرح چپ رہا جاتا ہے جو ایک حیرت انگیز امر ہے۔

اسی طرح ایک اور قسم کی مچھلی جمنوٹیفورمس بھی نر سے ملاپ کے وقت عین اسی طرح گفتگو کرتی ہے۔ ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ فیل مچھلی خاموشی کے بعد بجلی کے جھماکے خارج کرنے میں زیادہ مستعد ہوتی ہے اور اس عمل میں اسے آسانی ہوتی ہے۔

ماہرین نے ایک جوڑا مچھلی کا لیا اور اس میں سے ایک مچھلی کی مصنوعی طور پر بجلی کی سرگرمی کو روک کراسے خاموش کرایا گیا، تو اسی وقت دوسری (بات کرنے والی) مچھلی کی دماغی سرگرمی بڑھنے لگی۔ عین اسی طرح کا رویہ ہم انسان بھی اختیار کرتے ہیں۔

اس طرح نہ صرف مچھلیوں کے درمیان مکالمہ ہوتا ہے بلکہ خاموش رہ کر وہ بجلی کے سگنل سے ایک دوسرے کو توجہ سے سنتی بھی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں