13

جبری مشقت کرنے والے بچوں کی تعداد گزشتہ دو دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اقوام متحدہ

کورونا کی وجہ سے 2022 کے اختتام تک مزید 9 ملین بچوں کو بھی جبری مشقت کی دلدل میں دھکیلے جانے کا خطرہ موجود ہے.(فوٹو:فائل)

کورونا کی وجہ سے 2022 کے اختتام تک مزید 9 ملین بچوں کو بھی جبری مشقت کی دلدل میں دھکیلے جانے کا خطرہ موجود ہے.(فوٹو:فائل)

جنیوا: دنیا بھر میں کام کرنے والے بچوں کی تعداد گزشتہ دو دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق ’ ہم بچوں سے جبری مشقت کے خلاف جنگ میں ہار رہے ہیں‘۔

رپورٹ کے مطابق عالمگیر وبا کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں جبری مشقت کرنے والے بچوں کی تعداد بڑھ کر 160 ملین تک پہنچ چکی ہے، اور یہ دو دہائی میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

یونیسیف اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن ( آئی ایل او) کی جانب سے شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار سالوں میں 8 اعشاریہ 4 ملین بچوں کو جبری مشقت میں دھکیلا گیا ہے اور کورونا کی وجہ سے 2022 کے اختتام تک مزید 9 ملین بچوں کو بھی جبری مشقت کی دلدل میں دھکیلے جانے کا خطرہ موجود ہے۔

 آئی ایل او کے ماڈل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر بچوں کو سنجیدگی سے سماجی تحفظ نہیں دیا گیا تو 46 ملین بچوں کو جبری مشقت کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ آئی ایل کے ڈائریکٹر جنرل گائے ریڈر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ہمارے لیےخطرے کی گھنٹی ہیں نئی نسل کو اس خطرے سے بچانے کے لیے ہمیں عملی اقدامات کرنے ہوںگے۔

2000 سے 2016 تک حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی وجہ سے جبری مشقت کرنے والے بچوں کی تعداد کم ہوکر 94 ملین پر آگئی تھی، لیکن گزشتہ 4 سال میں ان اعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

آئی ایل او اور یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں جبری مشقت کرنے والے بچوں کی نصف تعداد کی عمر پانچ سے 11 سال ہے۔ جب کہ 5 سے 17 سال کے بچے ایسے ماحول میں کام کر رہے ہیں جہاں انہیں صحت، حفاظت اور اخلاقی مسائل کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ایسے بچوں کی تعداد سا ڑھے 6 ملین اضافے کے بعد 79 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ جب کہ70 فیصد( تقریبا112 ملین ) بچے صرف زراعت کے شعبے میں ہی جبری مشقت کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں