11

کیوبا کے باشندے نے سیکڑوں پیلیکن کو دوست بنالیا

معمر شہری لیونارڈو کاریلو اپنے گاؤں میں جمع ہونے والے پیلیکن کو خوش آمدید کہتے ہوئے (فوٹو: رائٹرز)

معمر شہری لیونارڈو کاریلو اپنے گاؤں میں جمع ہونے والے پیلیکن کو خوش آمدید کہتے ہوئے (فوٹو: رائٹرز)

کیوبا: سمندری پرندے پیلیکن آزاد رہتے ہیں اور عموماً پالتو نہیں ہوتے لیکن مسلسل 20 سال کی محبت اور دیکھ بھال سے اب وہ کیوبا کے ایک بزرگ کے دوست بن چکے ہیں۔

لیونارڈو کاریلو نے کسی پرندے کو ’باعزت مائیکل‘ کہا یا دوسرے کو ’محبوب پنچیٹو‘ کے نام سے پکارا ہے۔ پیلیکن سال میں ایک مرتبہ اس کے چوبی گھرکا رخ کرتے ہیں اور جب تک وہ واپس نہیں لوٹتے لیونارڈو ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ دن میں تین سے چار مرتبہ انہیں دانا پانی پیش کرتے ہیں اور زخمی پیلیکن کا علاج کرتے ہیں۔

اب لیونارڈو کی عمر 62 برس ہوچکی ہے وہ 40 برس کی عمر سے ان پرندوں کا خیال رکھ رہے ہیں۔ اب ہر سال نقل مکانی کرکے 100 سے زائد پرندے ان کے پاس آتے ہیں۔ لیونارڈو کے دیہات، گوانیمار میں دسمبر کے مہینے میں یہ پرندے آتے ہیں اور سردیاں گزار کر مئی میں دوبارہ اڑان بھرتے ہیں۔

لیونارڈو نے کہا کہ ’جب پیلیکن چلے جاتے ہیں تو میں بہت اداس ہوجاتا ہوں کیونکہ یہ میرے بچوں کی مانند ہیں جنہیں میں روز یاد کرتا ہوں،۔ اگرچہ لیونارڈو کے تین بچے ہیں لیکن وہ ان سے دور رہتے ہیں، پھر کورونا وبا کی وجہ سے ان سے ملاقات بھی کم کم ہی ہوپاتی ہے۔

ان پرندوں میں اکثریت بھورے پیلیکنز کی ہے جن کی موٹی لمبی چونچ ہوتی ہے اور حلق میں تھیلے نما ابھار ہوتے ہیں جو مچھلی پکڑنے کے کام آتا ہے۔

لیونارڈ کے مطابق تمام پرندے ایک جیسے لگتے ہیں لیکن ان کی الگ الگ شخصیت ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ خود سے کھاسکتے ہیں لیکن لیونارڈو اپنے محلے سے بچا کچھا کھانا جمع کرکے ان کے سامنے رکھتے ہیں۔ اسی طرح ماہی گیری کے کانٹے سے زخمی ہونے والے پیلیکن کا علاج بھی کرتے ہیں۔

لیونارڈو پہلے ایک ماہی گیری کی کمپنی میں کام کرتے تھے لیکن ریٹائرہونے کے بعد اب وہ برف فروخت کرنے جیسے کام کرتے ہیں اور کچھ رقم انہیں امریکا سے ان کےعزیز بھیجتےہیں۔ اسی سے وہ اپنا اور بے زبان پرندوں کا خیال رکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں