35

کیا کولیسٹرول کم کرنے والی دوا سے دماغی بیماری بھی ہوسکتی ہے؟

لائپوفیلک قسم کی اسٹیٹن دوائیں استعمال کرنے والوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ دوسرے مریضوں سے زیادہ دیکھا گیا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

لائپوفیلک قسم کی اسٹیٹن دوائیں استعمال کرنے والوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ دوسرے مریضوں سے زیادہ دیکھا گیا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

لاس اینجلس: سائنسدانوں نے کولیسٹرول کم کرنے والی بعض دواؤں کے استعمال اور بڑھاپے میں مختلف دماغی بیماریوں (ڈیمنشیا) میں واضح تعلق دریافت کیا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس (یو سی ایل اے) میں کی گئی اس تحقیق میں 300 ادھیڑ عمر اور بزرگ افراد کا جائزہ لیا گیا جن میں یادداشت اور سوچ بچار کی صلاحیت معمولی سی متاثر تھی جبکہ ان میں سے کئی لوگ کولیسٹرول کم کرنے کےلیے ’’لائپوفیلک‘‘ قسم کی اسٹیٹن (statin) دوائیں استعمال کررہے تھے۔

لائپوفیلک قسم کی اسٹیٹن دوائیں استعمال کرنے والے افراد میں آٹھ سال بعد ڈیمنشیا (مختلف دماغی بیماریوں کے مجموعے) کا خطرہ، دوسرے مریضوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ دیکھا گیا۔

واضح رہے کہ جسم میں مضرِ صحت چکنائی ’’ایل ڈی ایل‘‘ کم کرنے کےلیے ’’اسٹیٹن‘‘ کہلانے والی دوائیں عام استعمال کی جاتی ہیں تاہم ان کی بھی دو بڑی اقسام ہیں۔ ایک قسم لائپوفیلک (lipophilic) اور دوسری ہائیڈروفیلک (hydrophilic) کہلاتی ہیں۔

ہائیڈروفیلک اسٹیٹن دوائیں زیادہ تر جگر پر عمل کرتے ہوئے چکنائی کم کرتی ہیں جبکہ لائپوفیلک اسٹیٹن دوائیں دماغ سمیت پورے جسم میں گردش کرتے ہوئے چکنائی (کولیسٹرول) گھٹاتی ہیں۔

اس تحقیق کے دوران ہائیڈروفیلک اسٹیٹن دواؤں کے استعمال اور ڈیمنشیا میں کوئی تعلق سامنے نہیں آیا۔ البتہ لائپوفیلک اسٹیٹن قسم کی دوائیں کھانے والے افراد میں آٹھ سال بعد ڈیمنشیا کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ چکا تھا۔

لائپوفیلک اسٹیٹن ادویہ سے ڈیمنشیا کی ایک ممکنہ وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ دماغ کو اپنے افعال بہتر طور پر انجام دینے کےلیے چکنائی کی کچھ ضروری مقدار درکار ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ لائپوفیلک ادویہ اس چکنائی کو بھی ختم کردیتی ہوں جس سے دماغ کو نقصان پہنچتا ہو۔

تاہم یہ بات ابھی صرف ایک مفروضے کی حد تک ہے جس کی تصدیق یا تردید کےلیے بڑے پیمانے پر مزید تحقیق اور وسیع تر مطالعات کی ضرورت ہے۔

’’دی جرنل آف نیوکلیئر میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مرکزی مصنف، ڈاکٹر پرسنّا پدمنابھام نے خبردار کیا ہے کہ فی الحال لائپوفیلک اسٹیٹنز اور ڈیمنشیا کے مابین صرف اور صرف تعلق سامنے آیا ہے، لہذا ان ادویہ کو ڈیمنشیا کی وجہ سمجھنے میں جلد بازی نہ کی جائے؛ اور اس حوالے سے مزید بہتر اور وسیع تر تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جائے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں