29

کھیتی باڑی کرنے والے دھانی نام کمانے لگے

لیگ میں آئیڈیل کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے پر فخر محسوس کرتا ہوں، پیسر۔ فوٹو: فائل

لیگ میں آئیڈیل کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے پر فخر محسوس کرتا ہوں، پیسر۔ فوٹو: فائل

کھیتی باڑی کرنے والے دھانی پی ایس ایل میں نام کمانے لگے، ملتان سلطانز کے پیسر کا کہنا ہے کہ والد پڑھائی پر توجہ دینے کی تاکید کرتے مگر اپنی لگن سے آگے بڑھتا گیا۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹwww.cricketpakistan.com.pk کے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شاہنواز دھانی نے کہا کہ پاکستان کے لیے کھیلنے والے کرکٹرز ملک کی شان ہیں، میری کامیابیوں پر اندرون سندھ کے رہنے والوں کو بھی فخر ہوتا ہے، شکر ہے کہ کم وقت میں ہی اس مقام تک پہنچ گیا، میرا گاؤں لاڑکانہ سے 25منٹ کی مسافت پر ہے جہاں چاول، گندم اور امرود کی پیداوار ہوتی ہے،میں کھیتی باڑی کرتا تھا، والد پڑھائی پر توجہ دینے کی تاکید کرتے مگر اپنی لگن سے آگے بڑھتا گیا اور اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوا، میری وجہ سے اندرون سندھ کے والدین بھی اپنے بچوں کوکرکٹ میں سپورٹ کر رہے ہیں، اب ان کو بھی امید ہے کہ محنت کریں گے تو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔

پی ایس ایل6کے ٹاپ بولرز میں شامل شاہنواز دھانی نے کہا کہ لیگ میں انٹرنیشنل اسٹارز شرکت کرتے ہیں، تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ اور خلاف کھیل کر سیکھنے کا موقع ملتا ہے، ان کی خوبیاں اور خامیاں جانتے ہوئے بولنگ میں بہتری لانے کا ہنر حاصل ہوتا ہے، جن اسٹار کرکٹرز کو آئیڈیل سمجھتا تھا،ان کے ساتھ کھیلنے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔

انھوں نے کہا کہ پشاور زلمی کے خلاف میچ میں یادگار بولنگ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کا نتیجہ تھی، اوس کی وجہ سے گیند ہاتھ میں نہیں آرہی تھی، پہلا اوور اچھا نہیں کر سکا،پھراپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے ارادہ کیا کہ اچھی بولنگ سے پہلے اوور کی کارکردگی کے اثرات کو زائل کرنا ہے، اسی لیے ٹاپ آرڈر کے 4بیٹسمینوں کو آؤٹ کر کے میچ کا پانسہ پلٹنے میں کامیاب ہوگیا۔

شاہنواز نے کہا کہ ملتام سلطانز کے کپتان محمد رضوان میدان کے اندر اور باہر پْرسکون رہتے اور سب کو اعتماد دیتے ہیں، اسی حوصلہ افزائی کی بدولت کارکردگی دکھانے میں مدد ملتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کی الگ ہی شان ہے، میں دورہ زمبابوے کے بعد ویسٹ انڈیز کے لیے قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں منتخب ہوا ہوں، اپنی سو فیصد کارکردگی دکھانے کی کوشش کروں گا، بولنگ کوچ وقار یونس کھیل میں بہتری لانے کے لیے مفید مشورے دیتے ہیں۔

وکٹ لینے پرجشن منانے کے منفرد انداز سے خوشی ملتی ہے

شاہنواز دھانی نے کہا ہے کہ وکٹ لینے پر جشن منانے کے منفرد انداز سے خوشی ملتی ہے، ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ایک اچھی تفریح ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے اسٹیڈیم میں کراؤڈ نہیں ہوتا،اس لیے خود ہی اپنی تفریح کا اہتمام کرنا پڑتا ہے، اسٹار کرکٹرز کے ساتھ مل کر جشن منانے سے میرا اپنا حوصلہ بھی بڑھتا ہے۔

کراچی میں میچ کے دوران کارلوس بریتھ ویٹ کے ساتھ کھیلا تو جشن منانے کا یہ انداز اپنایا، دنیا بھر کے شائقین نے ہی نہیں بلکہ اسٹار کرکٹرز نے بھی اسے پسند کیا، اسی لیے خود بھی اس سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ شاہنواز دھانی نے جوفرا آرچر کو اپنا آئیڈیل بولر قرار دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں