24

ای سی سی اجلاس، 3 ملین میٹرک ٹن گندم درآمد کرنیکی منظوری

پاک افغان بارڈر پر سیکیورٹی کیلیے 570 ملین،  وزارت میری ٹائم افیئرز کیلیے 56.341 ملین روپے سمیت دیگر گرانٹس کی منظوری(فوٹو:فائل)

پاک افغان بارڈر پر سیکیورٹی کیلیے 570 ملین، وزارت میری ٹائم افیئرز کیلیے 56.341 ملین روپے سمیت دیگر گرانٹس کی منظوری(فوٹو:فائل)

 اسلام آباد:  کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاسکو کے ذخائر سے پیداواری سال 2021-22میں خیبر پختونخوا کو 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی فراہمی، غیر ملکی فنڈ حاصل کرنے والی این جی اوز/ این پی اوز کے لیے نئی پالیسی اور گندم کے اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے کے لیے 3 ملین میٹرک ٹن گندم کی درآمد کی منظوری دے دی ہے۔

ای سی سی کے اجلاس میں نیویارک میں روز ویلٹ ہوٹل کے کبھی کبھار اور معمول کے واجبات کی ادائیگی کی مد میں پی آئی اے آئی ایل کے لیے 17.3 ملین ڈالر کی منظوری دینے کے علاوہ کئی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی گئی۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو یہاں وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت کابینہ ڈویژن میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر توانائی حماد اظہر ، وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی، اقتصادی امور کے وفاقی وزیر عمر ایوب خان، وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی، وفاقی وزیر غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام، وزیر نجکاری محمد میاں سومرو، مشیر تجارت عبدالرزاق داد، مشیر ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی پاور تابش گوہر، معاون خصوصی محصولات ڈاکٹر وقار مسعود، گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر، متعلقہ وزارتوں کے سیکریٹریز اور سینئر افسران نے شرکت کی۔ ای سی سی نے پاسکو کے ذخائر سے کاشتکاری کے سال 2021-22میں خیبر پختونخوا کو 5لاکھ میٹرک ٹن گندم کی فراہمی سے متعلق وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی درخواست کی منظوری دی۔

اجلاس میں غیر ملکی فنڈ حاصل کرنے والی این جی اوز/ این پی اوز کے لیے نئی پالیسی کی منظوری بھی دی گئی۔ نئی پالیسی کے مطابق منظوری کا عمل اب 60 یوم کے اندر مکمل ہوگا۔   ای سی سی نے وزارت توانائی کی جانب سے ڈبلیو او پی اور ایم ایف ایم پائپ لائن کے ذریعے ان لینڈ آئی ایف ای ایم کی وساطت سے گیسولین، ٹرانسپورٹیشن کے زیادہ سے زیادہ 0.5 فیصد کی شرح سے آپریشنل نقصانات کی درخواست کی اجازت دے دی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے3ملین میٹرک ٹن گندم کی درآمد کی درخواست کی منظوری بھی دے دی تاہم اس کے لیے پیپرا کے بورڈ سے منظوری لینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں گندم کے اسٹریٹجک ذخائر کو برقرار رکھنا ہے۔ اجلاس میں نیویارک میں روز ویلٹ ہوٹل کے کبھی کبھار اور معمول کے واجبات کی ادائیگی کے لیے پی آئی اے آئی ایل کے لیے 17.3 ملین ڈالر کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں گلگت بلتستان کی حکومت کو گندم کی سبسڈی فراہم کرنے کے لیے وزارت خزانہ کے لیے 1.370 ارب روپے، وزارت صنعت و پیداوار کے مختلف اخراجات کے لیے 32.097 ارب روپے،مئی 2021میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کے بل کی ادائیگی کے لیے وزارت صنعت و پیداوار کے لیے 1.6 ارب روپے، پی ٹی وی ملتان ، آزاد جموں و کشمیر، انگلش نیوز چینل اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے بجٹ شارٹیج کے لیے 274.161 ملین روپے، پاک افغان بارڈر پر سیکیورٹی بڑھانے کے لیے وزارت داخلہ کے لیے 570 ملین روپے، وزارت میری ٹائم افیئرز کے لیے 56.341 ملین روپے ، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے ملازمین سے متعلق اخراجات کی ادائیگی کے لیے 145 ملین روپے،  پاکستان ریزز ریونیو پروگرام کی مد میں ریونیو ڈویژن کے لیے 2.467 ارب روپے، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ملازمین سے متعلق اخراجات کی ادائیگی کے لیے 834 ملین روپے اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی درخواست پر کراچی کوسٹل پاور پراجیکٹ یونٹ ون ٹو کے لیے 49 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں