15

کرپشن کیخلاف قانون سازی کی فائل پر گرد جم گئی

قانون کے مطابق الزام ثابت ہونے پر10 سال قید،10کروڑ روپے جرمانے کی سزا ۔  فوٹو : فائل

قانون کے مطابق الزام ثابت ہونے پر10 سال قید،10کروڑ روپے جرمانے کی سزا ۔ فوٹو : فائل

 کراچی: کرکٹ سمیت کھیلوں میں کرپشن کیخلاف قانون سازی کی فائل پر گرد جم گئی جب کہ ایک سال گذرنے کے باوجود کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اسپورٹس خصوصاً کرکٹ میں کئی کرپشن کیسز سامنے آ چکے مگر ملوث کھلاڑی چند برس پابندی یا جرمانہ ادا کر کے واپس آ جاتے ہیں۔ ان کے خلاف کرمنل کارروائی ممکن نہیں ہوتی، گذشتہ برس جون میں کرکٹ سمیت کھیلوں میں کرپشن کی روک تھام کیلیے اقبال محمد علی نے بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا،اسے’’پریوینشن آف آفینسز ان اسپورٹس ایکٹ 2020‘‘ کا عنوان دیا گیا۔

اس بل میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ کرکٹ سمیت کھیلوں میں کرپشن کرنے والوں کو گرفت میں لانے کیلیے قانون سازی کی جائے،پیسے یا کسی مفاد کیلیے براہ راست یا بالواسطہ کھیل کا دامن داغدار کرنے والوں کیخلاف کریمنل ایکٹ کے تحت تحقیقات کیلیے ایک خصوصی ایجنسی قائم کی جائے جسے متعلقہ اداروں سے مطلوبہ ڈیٹا حاصل کرنے کی اجازت ہو، کسی پر الزام ثابت ہوجائے تو10 سال قید یا10 کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جائیں۔

اسی طرح اسپورٹس اداروں میں سے کوئی ملوث ہو تو اسے3 سال سزا یا 2لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں،تحقیقات میں عدم تعاون،حقائق مسخ، غلط دستاویزات پیش کرنے یا ثبوت مٹانے والوں کو بھی 3 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں۔

غلط الزام لگانے والوں کو بھی ایک سال سزا یا ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جائیں، الزام ثابت ہونے پر ملوث فرد اور فیملی کی جائیداد بھی ضبط ہو سکے گی۔ جولائی 2020 میں پی سی بی نے بھی قانون سازی کیلیے اپنی تجاویز وزیر اعظم عمران خان اور آئی پی سی کو پیش کیں۔

’’لیجسلیشن آن دی پریوینشن آف کرپشن ان اسپورٹس‘‘ کے نام سے77 صفحات پر مشتمل تجاویز دی گئیں، اس میں لکھا تھا کہ میچ کے نتیجے، صورتحال کو تبدیل کرنے یا اثر انداز ہونے کیلیے رقم یا کوئی فائدہ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں، ملوث یا راغب کرنے والے افراد، کسی بھی میچ یا ٹورنامنٹ میں جوا کرانے والوں، اس مکروہ کام میں ساتھ دینے والے امپائرز، میچ ریفریز، کیوریٹرز، سپورٹ اسٹاف میں سے کسی کا بھی جرم ثابت ہوجائے تو 10 کروڑ روپے جرمانہ یا 10 سال قید کی سزا یا دونوں دینے کا قانون بنایا جائے، قانون نافذ کرنے والے متعلقہ ادارے قومی اور بین الاقوامی اسپورٹس تنظیموں کے ساتھ معاہدہ کریں۔ یہ دونوں بل اب تک لاگو نہیں ہو سکے، اب ایک سال سے زائد وقت گذر چکا ہے۔

اس حوالے سے نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اقبال محمد علی نے کہاکہ میرا پیش کردہ بل قومی اسمبلی سے پاس ہو چکا اور اب کرمنل ایکٹ بنانے کیلیے لا اینڈ جسٹس کمیٹی کے پاس جائے گا، آئی پی سی کی اسپورٹس کمیٹی کے سربراہ کی تبدیلی سے کچھ تاخیر ہوئی، امید ہے کہ عید کے بعد اس حوالے سے کوئی پیش رفت ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ پی سی بی نے میرے بعد اپنی سفارشات جمع کرائیں اور زیادہ تر چیزیں سری لنکا میں لاگو قانون سے لی گئی ہیں،کھیلوں میں کرپشن روکنے کیلیے بس قانون بننا چاہیے، کرکٹ بورڈ کی سفارشات سے بھی کچھ چیزیں شامل کی جا سکتی ہیں۔

اقبال محمد علی نے کہا کہ پی سی بی چاہتا ہے کہ کرپشن میں کسی آفیشل کے ملوث ہونے پر سخت سزا نہ تجویز کی جائے مگر میں اس کا مخالف ہوں۔

دوسری جانب اس حوالے سے رابطے پر پی سی بی کے ترجمان نے کہا کہ کرپشن کیخلاف قانون سازی پر ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی،یہ معاملہ بدستور آئی پی سی منسٹری دیکھ رہی ہے، وہی اسے لاگو کرانے کیلیے قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں