18

غیر معیاری دوائیں بنانے پر 5 فارما کمپنیوں کے لائسنز منسوخ اور 12 معطل

جن کے لائسنز معطل کیے گئے ان میں سندھ کی پانچ، بلوچستان کی ایک، خیبر پختونخوا کی پانچ اور اسلام آباد کی ایک کمپنی شامل (فوٹو : فائل)

جن کے لائسنز معطل کیے گئے ان میں سندھ کی پانچ، بلوچستان کی ایک، خیبر پختونخوا کی پانچ اور اسلام آباد کی ایک کمپنی شامل (فوٹو : فائل)

 اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے غیر معیاری ادویات بنانے پر پانچ مقامی ادویہ ساز کمپنیوں کے لائسنز منسوخ اور بارہ کے لائسنز معطل کردیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈریپ میں جن پانچ مقامی ادویہ ساز کمپنیوں کے لائسنز منسوخ کیے گئے ہیں ان میں اسلام آباد، پشاور، لاہور، کراچی و حیدر آباد کی مقامی ادویہ ساز کمپنیاں شامل ہیں۔

اسی طرح جن 12 کمپنیوں کے لائسنس معطل کیے گئے ہیں ان میں سندھ کی پانچ، بلوچستان کی ایک، خیبر پختونخوا کی پانچ اور اسلام آباد کی ایک دواساز کمپنی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ادویہ ساز کمپنیز کے خلاف ایکشن ڈریپ ایکٹ 2012ء کے تحت لیا گیا۔

دوسری جانب سی ای او ڈریپ عاصم رؤف نے فارما کمپنیز کے خلاف کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دوا ساز کمپنوں نے گڈز مینو فیکچرنگ پریکٹس کی خلاف ورزی کی۔

عاصم رؤف کے مطابق دواساز کمپنیز کے خلاف کارروائی فیلڈ ٹیمز کی سفارش پر کی گئی۔ انسپکشن میں کمپنیز غیر معیاری ادویہ سازی کی مرتکب پائی گئیں۔

سی ای او ڈریپ کا کہنا ہے کہ ملک میں عالمی معیار کی ادویات کی دستیابی اولین ترجیح ہے، ڈریپ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا، غیر معیاری ادویات کے خلاف ملک گیر آپریشن جاری رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں