18

11ارب میں بننے والے نالہ لئی کی لاگت90ارب ہوگئی

عامر الیاس رانا،طاہراشرفی، فیصل حسین،عامرلیاقت اور محمد الیاس کی ایکسپرٹس کی گفتگو۔ فوٹو: ایکسپریس ٹریبیون

عامر الیاس رانا،طاہراشرفی، فیصل حسین،عامرلیاقت اور محمد الیاس کی ایکسپرٹس کی گفتگو۔ فوٹو: ایکسپریس ٹریبیون

اسلام آباد: نالہ لئی 90ارب پرپہنچ گیا جو 11 ارب روپے میں بنناتھا۔

عامر الیاس رانا نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے انتظامات کیسے ہوسکتے ہیں کیونکہ جب زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے چاہے یہ  بلاول کہ رہے ہوںیا وزیر اعظم عمران خان ان کی نقل اتاررہے ہوں لیکن قدرت کی طرف سے جب اس قسم کاامتحان آتا ہے تو مشکل تو پڑجاتی ہے، یہ بات لوگ کہہ بھی دیتے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام’’ ایکسپرٹس‘‘ میں میزبان دعاجمیل سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شیخ رشید نے کہاکہ 20سال میں وہ پروجیکٹ شروع نہ ہواحالانکہ 19سال سے8سال شیخ رشید براہ راست حکمران ہیں، اوراب وہ نوے دن کاکہہ رہے ہیں، اس سے سواآٹھ سال ہوجائیں گے، ایک ایم ایل ون کایہ کہاکرتے تھے اور ریلوے منسٹری فارغ ہوگئی اورایم ایل ون سائن نہ کراسکی جبکہ نالہ لئی 90ارب پرپہنچ گیاجو دس گیارہ ارب روپے میں بنناتھا۔

حافظ طاہرمحموداشرفی نے کہاکہ انتظامیہ اگر پراپر طریقے سے اور عوامی نمائندے بھی کوشش کریںکہ اگربارش یاکوئی ہنگامی صورتحال پیداہوتوہم نے کیاکرناہے، میںوزیر اعظم کے ساتھ میٹنگ میں تھاانھوں نے ہدایات دیںکہ جہاں بھی سیلابی ریلہ آنے کاخطرہ ہووہاں ایم این ایزلازمی پہنچیں، یہ ایک مستقل معاملہ ہے جسے مستقل بنیادوںپرحل کرنے کی ضرورت ہے۔

فیصل حسین نے کہاکہ ہمیں بارش اورقدرتی آفت میں فرق کرناپڑے گا، چین میںساڑھے چھ سوملی میٹر بارش ہوئی ہم اسے توقدرتی آفت کہ سکتے ہیں جبکہ اسلام آبادمیں سوملی میٹر بارش ہوئی اس سے آنے والی تباہی محض نااہلی ہے، ہمارے لیے سوملی میٹربارش بھی مصیبت بن جاتی ہے، وفاقی حکومت کوچاہیے کہ اس حوالے سے کوئی منصوبہ ڈیزائن کرے۔

ڈاکٹر عامرلیاقت حسین نے کہاکہ کوئی بھی نہیں چاہے گاکہ پاکستان میںبارش سے  سیلابی صورتحال ہو، ہم نے کبھی اس طرف توجہ نہیں دی، ہمارے ہاںہمیشہ ڈیمز پر سیاست کی گئی کہ کالاباغ ڈیم بن جائیگاتوکے پی کے اورسندھ کا فلاںنقصان ہوجائے گاکیوںکوئی حکومت ڈیم نہیں بناسکی، کیوں عمران خان بھی ڈیم نہیں بناسکے۔

محمدالیاس نے کہاکہ انھیں مون سون سے پہلے پانی کی نکاسی کاانتظام کرناچاہیے تاکہ پانی نشیبی علاقوں میں کھڑاہونے کے بجائے نکل جائے لیکن اس طرف کوئی بھی توجہ نہیں دیتا،انھیں چاہیے کہ اس کاکوئی مستقل حل نکالیں اور جس طرح لاہورمیں زیر زمین ذخیرے بنارہے ہیں اسی طرح جگہ جگہ زیادہ مقدارمیں ذخیرے بنائے جائیں،123ملی میٹربارش کوئی زیادہ نہیں ہوتی،غریب لوگ مارے جاتے ہیں، اس کیلیے بجٹ میں فنڈزمختص ہونے چاہئیں۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں