17

6سالہ بچی قتل کیس؛ 5 مشتبہ افراد زیر حراست، ملزمان کا سراغ نہیں لگایا جاسکا

صرف ایک شخص نے رکشاسوارافرادکولاش پھینکتے ہوئے دیکھاتھا جوملزمان کے چہرے واضح طورپرنہیں دیکھ سکا،پولیس حکام
 فوٹو : فائل

صرف ایک شخص نے رکشاسوارافرادکولاش پھینکتے ہوئے دیکھاتھا جوملزمان کے چہرے واضح طورپرنہیں دیکھ سکا،پولیس حکام
فوٹو : فائل

 کراچی:  کورنگی میں 6سالہ بچی کے قتل کی تحقیقاتی ٹیم نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور ملزمان کی جلد گرفتاری کا یقین دلایا۔

تحقیقاتی ٹیم نے جائے وقوع کا بھی دورہ کیا، پولیس نے 5مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے ،تفصیلات کے مطابق بدھ کو علی الصباح کورنگی کے علاقے زمان ٹاؤن میںکچرا کنڈی سے 6سالہ بچی ماہم کی لاش ملی تھی جسے نامعلوم ملزمان نے تشدد کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کیا تھا جبکہ اسے زیادتی کا نشانہ بھی بنایاگیا تھا ۔

جمعرات کی صبح ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر ، ایس پی لانڈھی اور دیگر افسران مقتولہ کے گھر پہنچ گئے اور ورثا سے ملاقات کی اس موقع پر تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی عرفان بہادر نے مقتولہ کے والد سے ضروری معلومات بھی حاصل کی جبکہ انھوں نے جائے وقوع کا بھی دورہ کیا، انھوں نے یقین دلایاکہ جلد ہی ملزمان سلاخوںکے پیچھے ہوںگے ،فوٹیجز بھی حاصل کی جارہی ہیں ،دریں اثنا تفتیشی حکام نے وسیع پیمانے پر تحقیقات کرتے ہوئے واقعے کے بعد گزشتہ روز 5مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے بچی کے اغوا کے وقت اور جس وقت لاش ملی ہے پولیس کو اب تک کوئی عینی شاہد نہیں مل سکا ہے ، صرف لاش پھینکنے کے وقت ایک شخص نے بتایا کہ اس نے ایک رکشا اس کچراکنڈی کے قریب دیکھا تھا جبکہ وہ رکشا میں سوار افراد کے چہرے واضح طور پر نہیں دیکھ سکا ، فوری طور پر ملزمان کا کوئی سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے ، پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کررہی ہے۔

قاتلوں کی عدم گرفتاری پرشاہراہ فیصل بلاک کر دیں گے، فاروق ستار

ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے سر براہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ کورنگی میں زیادتی کا شکار ہونے والی ماہم کے ملزمان کو کیفر کرادار تک پہنچایا جائے وہ جمعرات کو ماہم کے گھر پر اہل خانہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کررہے تھے،انھوں نے کہا کہ ہم یہاں سیاست کرنے نہیں آئے جس طرح قوم کی بیٹی زینب کے واقعے نے پوری دنیا کو جھنجھوڑا آج ہم ماہم کے والدین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں حکومت اور ادارے کہاں ہیں میرا مطالبہ ہے کہ ماہم کے والدین کے ساتھ زینب جیسا انصاف ہونا چا ہیے.

حکومت کو عوام کی آواز کو سننا ہو گا ماہم کے ساتھ ہونے والے ظلم ہر ہوری قوم اٹھ کھڑی ہوئی ،معصوم ماہم کے قاتلوں کی گرفتاری تک روازنہ کی بنیاد پر احتجاج کیا جائے ، ماہم کے والد کو انصاف دیا جائے، ظلم کی انتہا ہے بسا بسایا گھر اجاڑ دیا معاشرے میں ایسے درندے کھلے عام گھوم رہے ہیں ایسے واقعات حکومتوں کے لیے اچھا شگون نہیں ہے ہمیں اپنے بچوں کے لیے ضمانت چاہیے  تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں سفاک درندوں کو سرے عام پھانسی دی جانی چا ہیے ، حکومت کی جانب سے معاوضے کا اعلان   کیا جائے، فاروق ستار نے کہا کہ ماہم کو  اگر انصاف نا ملا تو شاہراہ فیصل کو بلاک  کیا جائے گا۔

ماہم کے والد سے مدد گار 15 کے اہلکارکی غیر ذمہ دارانہ گفتگو، انکوائری شروع

کراچی پولیس چیف عمران یعقوب منہاس نے زمان ٹاؤن کورنگی میں مقتولہ ماہم کے والد سے مدد گار 15 کے اہلکار کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی پولیس مدد گار 15 عبداللہ میمن کو انکوائری افسر مقرر کر دیا ، ترجمان کراچی پولیس کے مطابق مدد گار 15 پر تعینات پولیس اہلکار نے مقتولہ بچی کے والد سے انتہائی غیر پیشہ ورانہ انداز میں گفتگو کی ، مدد گار 15 کا مقصد عوام کو فوری مدد اور رہنمائی فراہم کرنا ہے ، انکوائری رپورٹ موصول ہونے پر واقعے میں ملوث پولیس اہلکار کے خلاف سخت محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

پی ٹی آئی رہنمائوں کی 6سالہ بچی کے گھر پہنچ کر اہل خانہ سے تعزیت
پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے دیگر پارٹی رہنماوں کے ہمراہ کورنگی میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 6سالہ بچی کے گھر پہنچ کر اہل خانہ سے تعزیت کی۔

خرم شیر زمان نے بچی کے اہل خانہ کے مسائل اور شکایات سنیں اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ جب تک قاتل کی گرفتاری اور بچی کے اہل خانہ کو انصاف نہیں مل جاتا تب تک تحریک انصاف ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ اراکین قومی اسمبلی فہیم خان، اکرم چیمہ، پی ٹی آئی رہنما سمیر میر شیخ سمیت دیگر رہنما موجود تھے۔

ایس ایچ او زمان ٹائون اور ڈیوٹی افسر مجرمانہ غفلت پر معطل
زمان ٹائون میں اغوا کے بعد درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کی جانے والی کمسن ماہم کے واقعے پر علاقہ مکینوں کی درخواست پر پولیس حکام نے ایس ایچ او زمان ٹائون اور ڈیوٹی افسر کو مجرمانہ غفلت و لاپروائی برتنے پر معطل کر دیا ، ایس پی لانڈھی شاہنواز چاچڑ نے بتایا کہ ماہم کے اغوا اور اسے زیادتی کا نشانہ بنا کر بیدردی سے قتل کیے جانے کے واقعے پر اہل علاقہ کی جانب سے پولیس کی شکایت پر ڈی آئی جی ایسٹ ثاقب اسمٰعیل میمن نے انکوائری میں غفلت کے مرتکب پائے جانے پر ایس ایچ او زمان ٹائون عامر ملک اور ڈیوٹی افسر سب انسپکٹر ذوالفقار کو معطل کر دیا۔

انھوں نے بتایا کہ ماہم کیس میں اب تک 250 افراد کی لسٹ ترتیب دی گئی ہے جس میں 50 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے اس کے علاوہ 15 افراد کے سیمپلز بھی حاصل کیے گئے ہیں تاہم تحقیقات کے دوران کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ پولیس انتہائی باریک بینی سے تحقیقات کو آگے بڑھا رہی ہے تاکہ درندہ صفت ملزمان قانون سے بچ نہ سکیں اور انھیں عبرت کا نشانہ بنا دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں