14

پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ میں فیومی گیشن کے نام پر بے قاعدگیاں

ایرانی حکام نے 2 فیومی گیشن کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا، ڈپارٹمنٹ میں بدعنوان مافیا کا اجارہ ۔  فوٹو : فائل

ایرانی حکام نے 2 فیومی گیشن کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا، ڈپارٹمنٹ میں بدعنوان مافیا کا اجارہ ۔ فوٹو : فائل

 کراچی: پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ میں درآمدی اور برآمدی زرعی مصنوعات کی کھیپ پر کیڑے مار اسپرے کرنے (فیومی گیشن) کے نام پر بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں جاری ہیں، بین الاقوامی پلانٹ پروٹیکشن کنوینشن کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔

فیومی گیشن کرنے والی کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلیے فیومی گیشن ہونے کے بعد پاکستان آنے والی زرعی مصنوعات کی بھی دوبارہ فیومی گیشن کی جارہی ہے جبکہ غیر لازمی (نان مینڈیٹری) زرعی مصنوعات کے لیے بھی فیومی گیشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے افسران فیومی گیشن کمپنیوں اور اپنے ذاتی مفاد  کی خاطر زرعی مصنوعات کی درآمد کے لیے امپورٹ پرمٹ میں غیرتکنیکی شرائط عائد کررہے ہیں جن پر آسٹریلیا اور ایران کے قرنطینہ محکموں نے سرکاری سطح پر اعتراض کیا جبکہ تیل دار بیج  کے درآمد کنندگان کی نمائندہ پاکستان سالوینٹ ایکسٹریکٹرز ایسوسی ایشن، جوٹ ملز ایسوسی ایشن کے علاوہ زرعی مصنوعات کی بین الاقوامی تجارتی انجمن Gaftaبھی ان بے قاعدگیوں اور انٹرنیشنل پلانٹ پروٹیکشن کنوینشن کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرچکی ہے۔

تاہم پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ میں کراچی سے لے کر اسلام آباد تک موجود مخصوص مافیا قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے کھلم کھلا بین الاقوامی کنوینشن کی خلاف ورزیوں میں مصروف ہے۔ پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا کہ ادارے میں ایک دہائی سے رشوت کا بازار گرم ہے۔

حکومتوں کی تبدیلیوں اور افسران پر نیب اور ایف آئی اے میں بدعنوانی کے مقدمات اور تحقیقات کے باوجود بدعنوان مافیا کی اجارہ داری قائم ہے۔  پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ میں جاری بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ایرانی حکام نے رمضان ایسوسی ایٹس اور ملت ٹریڈنگ نامی فیومی گیشن کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا۔

ایرانی حکام نے پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کو ارسال کردہ خط میں بتایا کہ ایران کو ایکسپورٹ ہونے و الے آم کی کنسائنمنٹ میں حشرات پائے گئے اور بار بار نشاندہی کے باوجود یہ سلسلہ جاری رہا جس پر ایرانی حکام نے دو ڈس انفیکشن کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا ہے اور اب ان کمپنیوں کے ڈس انفیکٹ کردہ کنسائنمنٹ کو ایران میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں